خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 444
خطبات مسرور جلد 13 444 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015 ء اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تذکرۃ الشہادتین میں تحریر فرماتے ہیں کہ میرا ارادہ تھا کہ گورداسپور ایک مقدمے پر جانے سے پیشتر اس کتاب کو ( تذکرۃ الشہادتین کو ) مکمل کرلوں اور اسے اپنے ساتھ لے جاؤں مگر مجھے شدید درد گردہ ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ یہ کام نہیں ہو سکے گا۔اس وقت میں نے اپنے گھر والوں یعنی حضرت اُم المومنین سے یہ کہا کہ میں دعا کرتا ہوں آپ آمین کہتی جائیں۔چنانچہ اس وقت میں نے صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب شہید کی روح کو سامنے رکھ کر دعا کی کہ الہی اس شخص نے تیرے لئے قربانی کی ہے اور میں اس کی عزت کے لئے یہ کتاب لکھنا چاہتا ہوں تو اپنے فضل سے مجھے صحت عطا فرما۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی صبح کے چھ نہیں بجے تھے کہ میں بالکل تندرست ہو گیا اور اسی روز نصف کے قریب کتاب کولکھ لیا۔( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 72-73) اب دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمے پر جارہے تھے۔آپ چاہتے تھے کہ اس سے پیشتر کتاب مکمل ہو جائے مگر آپ سخت بیمار ہو گئے۔اس پر آپ نے حضرت شہید مرحوم کی روح کو جو آپ کے خادموں میں سے ایک خادم تھے اپنے سامنے رکھ کر دعا کی کہ الہی اس کی خدمت اور قربانی کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ کتاب لکھنی چاہی تھی۔تو مجھے اپنے فضل سے صحت عطا فرما۔اور پھر خدا نے آپ کی اس دعا کو قبول فرمایا۔چنانچہ آپ نے اس واقعہ کا ہیڈنگ ہی یہ رکھا ہے کہ ”ایک جدید کرامت مولوی عبداللطیف صاحب مرحوم کی صلحاء واتقیاء کے طریق سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس رنگ میں کئی بار دعا فرمائی۔جو چیز منع ہے وہ یہ ہے کہ مردہ کے متعلق یہ خیال کیا جائے کہ وہ ہمیں کوئی چیز دے گا۔یہ امر صریح نا جائز ہے اور اسلام اسے حرام قرار دیتا ہے۔باقی رہا اس کا یہ حصہ کہ ایسے مقامات پر جانے سے رفت پیدا ہوتی ہے یا یہ حصہ کہ انسان ان وعدوں کو یاد دلا کر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کئے ہوں دعا کرے کہ الہی اب ہمارے وجود میں تو ان وعدوں کو پورا فرما۔یہ نہ صرف ناجائز نہیں بلکہ ایک روحانی حقیقت ہے اور مومن کا فرض ہے کہ وہ برکت کے ایسے مقامات سے فائدہ اٹھائے۔مثلاً جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر دعا کے لئے جائیں تو ہم اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ الہی یہ وہ شخص ہے