خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 442 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 442

خطبات مسرور جلد 13 442 ادا کرتا ہوں لیکن آپ نے فرمایا کہ میرا تلفظ بھی صحیح نہیں ہوتا۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء (ماخوذاز الفضل 11 اکتوبر 1961 ، صفحہ 3 نمبر 235 جلد 50/15) تو میں نے دونوں چیزوں کی یہ وضاحت اس لئے کر دی ہے کہ ”ق“ اور ”ض“ دونوں کے واقعات ملتے ہیں اور ض“ عام طور پر جماعت میں شاید زیادہ جانا جاتا ہے۔اس لئے لوگ پھر مجھے لکھنا بھی شروع کر دیں گے کہ یہ ”ق“ کا واقعہ نہیں تھا ض“ کا واقعہ تھا۔اس لئے وضاحت کر دی ہے کیونکہ پھر بلا وجہ ڈاک بڑھ جائے گی اور ڈاک کی ٹیم پہلے ہی پریشان رہتی ہے کہ بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔پھر صبر کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ آپ کے صبر کی کیا حالت تھی۔آپ فرماتے ہیں کہ دشمنان احمدیت کے ایسے ایسے گندے خطوط میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام پڑھے ہیں کہ انہیں پڑھ کر جسم کا خون کھولنے لگتا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہ رکھے ہوئے تھے صبر سے کام لیتے تھے اور فرماتے ہیں کہ پھر یہ خطوط ایسی کثرت سے آپ کو پہنچتے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اتنی کثرت سے میرے نام بھی نہیں آتے۔میری طرف سال میں صرف چار پانچ خطوط ایسے آتے ہیں علاوہ ان کے جو بیرنگ آتے ہیں اور واپس کر دیئے جاتے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف ہر ہفتے میں دو تین خط ایسے ضرور پہنچ جاتے تھے اور وہ اتنے گندے اور گالیوں سے پر ہوا کرتے تھے کہ انسان دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اتفاقاً ان خطوط کو ایک دفعہ پڑھنا شروع کیا تو ابھی ایک دو خط ہی پڑھے تھے کہ میرے جسم کا خون کھولنے لگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا تو آپ فوراً تشریف لائے اور آپ نے خطوط کا وہ تھیلا میرے ہاتھ سے لے لیا اور فرمایا انہیں مت پڑھو۔اس قسم کے خطوط کے کئی تھیلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جمع تھے۔لکڑی کا ایک بکس تھا جس میں آپ یہ تمام خطوط رکھتے چلے جاتے۔کئی دفعہ آپ نے یہ خطوط جلائے بھی مگر پھر بہت سے جمع ہو جاتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہی تھیلوں کے متعلق اپنی کتب میں لکھا ہے کہ میرے پاس دشمنوں کی گالیوں کے کئی تھیلے جمع ہیں۔پھر صرف ان میں گالیاں نہیں ہوتی تھیں بلکہ واقعات کے طور پر جھوٹے اتہامات اور نا جائز تعلقات کا ذکر ہوتا تھا۔پس ایسی باتوں سے گھبرانا بہت نادانی ہے۔یہ باتیں تو ہمارے تقویٰ کو مکمل کرنے کے لئے ظاہر ہوتی ہیں۔ان میں ناراضگی اور جوش کی کون سی بات ہے۔آخر برتن کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہی اس میں سے ٹپکتا ہے۔دشمن کے دل میں