خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 441 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 441

خطبات مسرور جلد 13 441 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015 ء اور غیر عرب اس کا صحیح تلفظ ادا نہیں کر سکتے۔ایک دفعہ ایک عرب نے یہ اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی گفتگو کے دوران کیا کہ آپ صحیح ادائیگی نہیں کر سکتے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ایک دفعہ ایک شخص آیا۔آپ نے اسے تبلیغ کرنی شروع کی تو باتوں باتوں میں آپ نے فرمایا کہ قرآن میں یوں آتا ہے۔پنجابی لہجے میں چونکہ ق اورق اچھی طرح ادا نہیں ہو سکتا اور عام طور پر لوگ قرآن کہتے ہوئے قاریوں کی طرح ق کی آواز گلے سے نہیں نکالتے بلکہ ایسی آواز ہوتی ہے جو ”ق“ اور “ کے درمیان درمیان ہوتی ہے۔66 آپ نے بھی قرآن کا لفظ اس وقت معمولی طور پر ادا کر دیا۔اس پر وہ شخص کہنے لگا کہ بڑے نبی بنے پھرتے ہیں۔قرآن کا لفظ تو کہنا آتا نہیں اس کی تفسیر آپ نے کیا کرنی ہے۔جونہی اس نے یہ فقرہ کہا اس مجلس میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید بھی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے اسے تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے معا ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور دوسری طرف مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم بیٹھے تھے۔دوسرا ہا تھ انہوں نے پکڑ لیا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر اسے تبلیغ کرنی شروع کر دی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاحبزادہ صاحب سے فرمایا کہ ان لوگوں کے پاس یہی ہتھیار ہے اگر ان ہتھیاروں سے بھی یہ کام نہ لیں تو بتلائیں یہ اور کیا کریں۔اگر آپ یہی امید رکھتے ہیں کہ یہ بھی دلائل سے بات کریں اور صداقت کی باتیں ان کے منہ سے نکلیں تو پھر اللہ تعالیٰ کو مجھے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔اس کا مجھے بھیجنا ہی بتا رہا ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کا مجھے بھیجنا ہی بتا رہا ہے ) کہ ان لوگوں کے پاس صداقت نہیں رہی۔یہی اوچھے ہتھیار ان کے پاس ہیں اور صاحبزادہ صاحب کو فرمایا کہ ) آپ چاہتے ہیں کہ یہ ان ہتھیاروں کو بھی استعمال نہ کریں۔(ماخوذ الفضل 9 مارچ 1938 ء صفحہ 7 نمبر 55 جلد 26 ) ایک جگہ ض“ کی ادائیگی کا بھی ذکر ملتا ہے اور یہ بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا ہے، اور جگہ بھی ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک ہی موقع پر ”ق“ اور ”ض“ دونوں کی ادائیگی کے بارے میں اس نے کہا ہو کیونکہ دونوں جگہ پے حوالے تقریبا ایک طرح کے ہی ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے ”ض“ کے حوالے سے واقعہ بیان کرتے ہوئے خود لکھا ہے کہ عرب کہتے ہیں کہ ”ض“ لفظ ہماری طرح کوئی ادا نہیں کر سکتا جب پتا ہے کہ کوئی اور نہیں کر سکتا تو پھر اعتراض کیسا؟ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ پنجابیوں میں سب سے قریب ترین ض“ کو میرا خیال ہے میں