خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 437
خطبات مسرور جلد 13 437 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015 ء (ماخوذ از خطبات محمود جلد 2 صفحہ 261-260) - جان قربان کرنے والی بات ہے۔پس یہ نمونے ہیں ہمارے بزرگوں کے جن کو ہم واقفین زندگی کو بھی وقتاً فوقتاً اپنے سامنے رکھتے ہوئے ان پر غور کرنا چاہئے۔پھر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا آپ علیہ السلام سے جو عشق تھا اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مولوی عبد الکریم صاحب کو خاص عشق تھا اور ایسا عشق تھا کہ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس زمانے کو دیکھا۔دوسرے لوگ اس کا قیاس بھی نہیں کر سکتے۔(حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) وہ ایسے وقت میں فوت ہوئے جب میری عمر سولہ سترہ سال تھی اور جس زمانے میں میں نے ان کی محبت کو شناخت کیا ہے اس وقت میری عمر بارہ تیرہ سال کی ہوگی۔یعنی بچپن کی عمر تھی لیکن باوجود اس کے مجھ پر ایک ایسا گہرا نقش ہے کہ مولوی صاحب کی دو چیزیں مجھے کبھی نہیں بھولتیں۔ایک تو ان کا پانی پینا اور ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کی محبت۔آپ ٹھنڈا پانی بہت پسند کرتے تھے اور اسے بہت شوق سے پیتے تھے اور پیتے وقت ٹوٹ غٹ کی ایسی آواز آیا کرتی تھی کہ گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت کی نعمتوں کو جمع کر کے بھیج دیا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود دجلد 14 صفحہ 122-121 ) چند گھونٹ لینے کے بعد الحمد للہ الحمد للہ کرتے تھے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 24 صفحہ 158) ( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) اس زمانے میں اس مسجد اقصیٰ کے کنوئیں کا پانی بہت مشہور تھا۔اب تو معلوم نہیں لوگ کیوں اس کا نام نہیں لیتے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ کہتے بھائی کوئی ثواب کماؤ اور پانی لاؤ۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود مجلس میں موجود ہوتے تو اور بات تھی ورنہ آپ سیڑھیوں پر آ کر انتظار میں کھڑے ہو جاتے اور پانی لانے والے سے لوٹا لے کر منہ سے لگا لیتے۔دوسری بات جو تھی آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں بیٹھے ہوتے تو یوں معلوم ہوتا کہ آپ کی آنکھیں حضور کے جسم میں سے کوئی چیز لے کر کھا رہی ہیں۔اس وقت گویا آپ کے چہرے پر بشاشت اور شگفتگی کا ایک باغ لہرا رہا ہوتا تھا اور آپ کے چہرے کا ذرہ ذرہ مسرت کی لہر پھینک رہا ہوتا تھا۔جس طرح مسکرا مسکرا کر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سنتے اور جس طرح پہلو بدل بدل کر داد دیتے وہ قابل دید نظارہ ہوتا۔اگر اس کا تھوڑا سا رنگ میں نے کسی اور میں دیکھا تو وہ حافظ روشن علی صاحب مرحوم تھے۔غرض مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خاص عشق تھا اور