خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 433
خطبات مسرور جلد 13 433 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 جولائی 2015ء رکھا۔وہاں بعض احباب کو انفرادی طور پر بھی ان کی حالت کے بارے میں رویا میں بتا دیا کہ ان کی حالت کیسی ہے۔مصری صاحب کے جماعت میں مقام کا اندازہ اس سے لگائیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود بیان فرمایا ہے کہ ایک دوست نے افریقہ سے مجھے خط لکھا کہ مصری صاحب کے جماعت سے علیحدہ ہونے پر مجھے سخت گھبراہٹ ہے۔لکھتے ہیں کہ جب اتنے بڑے بڑے آدمیوں کا ایمان ضائع ہو گیا تو ہمارا ایمان کیا حقیقت رکھتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں اس پر میں نے ان کو لکھا کہ بڑائی کا فیصلہ کرنا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آپ کا نہیں ہے۔جب خدا تعالیٰ نے اپنے عمل سے انہیں جماعت سے علیحدہ کر دیا ہے جن کو آپ بڑا سمجھتے تھے اور آپ کو جماعت میں رکھا تو ثابت ہوا کہ بڑے آپ ہیں، وہ نہیں۔(ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر۔انوار العلوم جلد 14 صفحہ 564) بہر حال جبتک مصری صاحب جماعت میں تھے بڑے اہم سمجھے جاتے تھے اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اس اختلاف کے دوران یا جماعت سے نکلنے کے بعد مصری صاحب نے خودہی لَا تَقْتُلُوا زینب کا الہام بتا کر اپنی اہمیت ظاہر کرنا چاہی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رشتہ کے متعلق یہ الہام ہوا تھا اور اس کا مطلب یہی تھا کہ میرے بارے میں ہے۔لیکن جب اس الہام کی باقی الہاموں کے ساتھ جوڑ کے حضرت مصلح موعود نے حقیقت کھولی اور جماعت کے افراد نے بھی بتانا شروع کیا تو پھر مصری صاحب نے خود ہی کہنا شروع کر دیا کہ میری بیوی زینب کو اس معاملے میں کیوں کھینچا جا رہا ہے۔تو اس الہام کی وضاحت کرنے کی یہ وجہ ہے جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمائی ہے کہ کس طرح وہ الہام پورا ہوا۔حضرت مصلح موعود مزید فرماتے ہیں کہ اب دیکھو یہ کیسی زبردست پیشگوئی ہے جس کی طرف خود مصری صاحب نے توجہ دلائی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بیوی کو یہ یاد تھا کہ ایسا الہام ہوا تھا اور ( بیوی کہتی ہے کہ ) میرے والد نے اسے میرے متعلق سمجھا۔اس طرح ان کا ذہن اس طرف گیا اور ( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) اس طرح ان کا (مصری صاحب کا بھی ) ذہن اس طرف گیا اور شاید جو کام ہم سے دیر میں ہوسکتا وہ خود انہوں نے کر دیا۔( حضرت مصلح موعودؓ مثال دیتے ہیں کہ اس کی مثال ) بالکل اسی طرح ( ہے ) جس طرح بکری نے چھری نکالی تھی۔کہتے ہیں کہ کوئی شخص تھا جس نے بکری ذبح کرنے کے لئے چھری نکالی مگر پھر کہیں رکھ کر بھول گیا اور اس پر بچوں نے کھیلتے ہوئے مٹی ڈال دی اور وہ مٹی کے نیچے چھپ گئی۔اس نے چھری کو