خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 415
خطبات مسرور جلد 13 415 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء لیلۃ القدر کی عظمت پس ہمیں اس بات کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اور اس کے مطابق سوچنا چاہئے۔رمضان کے آخری عشرہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اور ایمان کو ہمیشہ سلامت رکھنے کے لئے اور تقویٰ پر قائم رہنے کے لئے ایک اور بات بھی ، ایک اور چیز بھی یا ایک اورا مر کی طرف بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ دلائی بلکہ ایک خوشخبری عطا فرمائی اور وہ یہ ہے کہ ان دنوں میں آخری عشرہ میں لیلتہ القدر ہے۔ایک روایت میں آتا ہے جو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور محاسبہ نفس کرتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے،اس کو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔اور جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے لیلتہ القدر کی رات قیام کیا اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(صحیح البخاری کتاب فضل ليلة القدر باب فضل ليلة القدر حدیث نمبر (2014) لیلۃ القدر کی بڑی اہمیت ہے لیکن رمضان کے روزے بھی وہی اہمیت رکھتے ہیں۔ٹھیک ہے کہ ایک رات میں گناہ بخشے جاتے ہیں لیکن گزشتہ عمل بھی سامنے ہیں اور رمضان میں تیس دنوں میں بھی یہی عمل ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ شرائط ہیں جو ضروری ہیں۔ایمان اور نفس کا محاسبہ۔یعنی رمضان کے روزے بھی اور لیلتہ القدر کا پانا اور گناہ بخشوانا بھی۔اگر پہلے دنوں میں کوئی کمزوری رہ گئی تھی تو آخری دنوں میں اسے دور کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف لیلتہ القدر جس کو ملے گی اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے بلکہ ہر شخص جو روزوں سے اور لیلتہ القدر سے ایمان کی حالت میں اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتے ہوئے گزر رہا ہو اس کو اللہ تعالیٰ کی بخشش کی امید رکھنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے۔مومن کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سی خصوصیات اور شرائط رکھی ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جہاں بھی یہ شرائط رکھی ہیں وہاں بہت ساری جگہوں پر ایمان کو اعمال صالحہ کے ساتھ بھی جوڑا ہے۔اللہ تعالیٰ پر ایمان اور ساتھ ہی نیک اعمال۔پس اس طرف بھی ہماری توجہ رہنی چاہئے کہ ایمان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مومنوں کے لئے بہت سی نشانیاں بتائی ہیں۔مثلاً ایک نشانی یہ بتائی کہ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الانفال : 3 )۔یعنی مومن تو صرف وہی ہیں جن کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جائیں۔مومن کی یہ نشانی ہے کہ