خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 416

خطبات مسرور جلد 13 416 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء ہر وقت اس احساس میں رہے کہ خدا کے احکامات پر عمل کرنا ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیئے ہیں۔جب بھی اسے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے کوئی چیز یا د کرائی جائے تو وہ فور ڈر جائے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔پس جب متعدد جگہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے اعمال صالحہ بجالانے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو اس کو ہمیں ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔جب خدا تعالیٰ کے حوالے سے ان کی ادائیگی کا کہا جائے اور پھر انسان ان کی ادائیگی کی طرف توجہ نہ دے تو کیا وہ اس آیت کے تحت مومین کے زمرہ میں آتا ہے؟ یا اگر ہم تو جہ نہیں دیتے تو ہم (اس زمرہ میں ) آتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہر شخص اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اور اپنے ایمان کی حالت کو دیکھتے ہوئے روزے رکھے یا لیلتہ القدر سے گزرے تو اس کے گناہ بخشے جائیں گے۔پس رمضان اور لیلتہ القدر کی برکتیں مشروط ہیں۔جیسا کہ میں نے شروع میں بھی کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول کے احکامات مشروط ہوتے ہیں۔اگر انسان کے ایمان میں کمزوری ہے اور دوسروں کے حقوق غصب کر رہا ہے اور پھر بھی وہ اگر کہتا ہے کہ اس نے لیلتہ القدر کا نظارہ کیا۔اگر دعا کی خاص کیفیت اس میں پیدا ہو کر اُسے اپنی حالت میں مکمل انقلاب لانے والا بناتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور رحمت نے اسے نوازا ہے جس کا تقاضا اب یہ ہے کہ اس پر قائم رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرے۔اگر یہ حالت نہیں تو ہوسکتا ہے کہ جس کو وہ لیلتہ القدر سمجھا ہو وہ نفس کا دھوکہ ہو۔آپ نے تو یہی فرمایا ہے۔ایمان بھی کامل ہونفس کا محاسبہ بھی ہو۔پس اس نکتہ کو ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے کہ لیلتہ القدر صرف وہ خاص رات ہی نہیں۔لیلۃ القدر کی تین صورتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ رات جو رمضان میں آتی ہے۔ایک وہ زمانہ جو نبی کا زمانہ ہے۔اور ایک یہ ہے کہ انسان کے لئے ، ہر شخص کے لئے اس کی لیلتہ القدر وہ ہے جب وہ پاک اور صاف ہو گیا۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحه (336) دنیا کے تمام گندوں اور میلوں سے پاک ہو گیا۔اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم ہو گیا۔اپنا محاسبہ کرتے ہوئے تمام برائیوں کو اپنے سے دور کر دیا۔پس یہ وہ لیلتہ القدر ہے جو اگر ہمیں میسر آ جائے اور ہم خالص اللہ تعالیٰ کے ہو جائیں اور اس کے حکموں پر عمل کرنے والے بن جائیں، اپنی عبادتوں کے