خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 413

خطبات مسرور جلد 13 413 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء خبر رہنا اور اس سے دور رہنا اور سچی محبت اس سے نہ رکھنا در حقیقت یہی جہنم ہے جو عالم آخرت میں انواع و اقسام کے رنگوں میں ظاہر ہوگا“۔چشمه سیحی روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 352) پس اس نکتے کو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جہنم سے نجات بھی اس دنیا سے شروع ہوتی ہے اور جنت کا ملنا بھی اس دنیا میں ہوتا ہے اور ان دونوں کے جو وسیع اثرات ہیں، جو مختلف حالتوں اور رنگوں میں انسان کو ملنے ہیں یا ملتے ہیں وہ اگلے جہان میں ملتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ سے حقیقی تعلق ، توبہ استغفار انسان کو اس دنیا میں بھی جنت دکھا دیتا ہے جس کے وسیع تر انعامات جیسا کہ میں نے کہا اگلے جہان میں ملیں گے۔اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق اور محبت اور اس کی رحمت اور بخشش ہر وقت طلب نہ کرتے رہنا اس کے احکامات کو جان بوجھ کر توڑنا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کے حوالے سے اس طرح کھول کر بیان فرمایا۔فرمایا کہ " قرآن شریف نے بہشت اور دوزخ کی جو حقیقت بیان کی ہے کسی دوسری کتاب نے بیان نہیں کی۔اس نے صاف طور پر ظاہر کر دیا کہ اسی دنیا سے یہ سلسلہ جاری ہوتا ہے۔چنانچہ فرما یا ولمن خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتن (الرحمن : 47) - یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے واسطے دو بہشت ہیں“۔( دو جنتیں ہیں۔) یعنی ایک بہشت تو اسی دنیا میں مل جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا خوف اس کو برائیوں سے روکتا ہے۔(برائیوں سے رکنے سے بہشت ملتا ہے ) اور بدیوں کی طرف دوڑنا دل میں ایک اضطراب اور قلق پیدا کرتا ہے جو بجائے خود ایک خطرناک جہنم ہے“۔( اللہ تعالیٰ کا خوف برائیوں سے روکتا ہے اور انسان جب برائیوں سے رکتا ہے تو اس دنیا میں بھی جہنم سے بچ گیا اور جو بدیوں کی طرف دوڑنا ہے، بدیاں کرنا ہے، اس سے کوئی بدی کرنے والا سکون نہیں پاتا۔کہیں نہ کہیں اس کو اضطراب رہتا ہے، کوئی بے چینی رہتی ہے اور انسان کی بدیاں کرنے کے بعد جو یہ حالت ہے یہ خود ایک جہنم ہے۔فرمایا لیکن جو شخص خدا کا خوف کھاتا ہے تو وہ بدیوں سے پر ہیز کر کے اس عذاب اور درد سے تو دم نقد بیچ جاتا ہے“۔( وہ تو فوری طور پر بچ گیا جو خدا تعالیٰ کا خوف کرنے والا ہے۔) ”جو شہوات اور جذبات نفسانی کی غلامی اور اسیری سے پیدا ہوتا ہے۔یعنی جذبات شہوانی سے اور جذبات نفسانی سے انسان جو نفسانی جذبات کی غلامی میں آ جاتا ہے یا شہوات کا اسیر بن جاتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا خوف ہو تو اپنے ان جذبات کو دبانے سے وہ اس سے بچ جاتا ہے۔66