خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 412
خطبات مسرور جلد 13 412 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء ہوئے اس کی پناہ میں آؤ اور یہ کوشش کرو کہ یہ حالت مستقل ہو جائے۔اللہ کرے کہ ہم میں سے اکثر اس سوچ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مغفرت طلب کرتے ہوئے دوسرے عشرے میں سے گزر رہے ہوں یا گزرے ہوں۔عشرہ تو ختم ہو گیا۔اور اب اس سوچ کے ساتھ تیسرے عشرے میں بھی داخل ہور ہے ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کی ہوئی روشنی اور طاقت ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں لے جانے والی ہوگی انشاء اللہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ آخری عشرہ جہنم سے بچانے کا عشرہ ہے تو جب انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت کی چادر میں بھی لپٹ جائے ، اس کی مغفرت سے روشنی اور طاقت پکڑ کر اس پر قائم بھی ہو جائے ، اس کی روشنی سے حصہ لے لے اور اس کی طاقت پکڑ کر اس پر قائم بھی ہو جائے تو ظاہر ہے وہ پھر اللہ تعالیٰ کا قرب پانے والا ہی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کسی کو بغیر اجر کے تو نہیں چھوڑتا۔بڑا د یا لو ہے۔بڑا دینے والا ہے۔جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے نیکیاں بجالا رہا ہو یا بجالانے کی کوشش کر رہا ہوتو اللہ تعالیٰ صرف اتنا نہیں فرما تا کہ اچھا میں تمہیں جہنم میں نہیں ڈالوں گا۔جہنم سے تم بچ گئے بلکہ جہنم سے بچانے کا عشرہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل میں ہمیں یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے عمل کرنے والوں سے راضی ہو کر اپنی جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔جو دوزخ کے دروازے رمضان کے آنے پر بند کئے گئے تھے۔(سنن الترمذى كتاب الصوم باب ما جاء في فضل شهر رمضان حدیث نمبر (682) اگر مستقل اس کی مغفرت طلب کرتے رہو گے، استغفار کرتے رہو گے، نیکیوں پر دوام حاصل کرنے کے لئے اور ان پر قائم رہنے کے لئے مستقل اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑے رہو گے تو جہنم کے دروازے صرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ ان تیس دنوں کی عبادات اور عہد اور حقوق کی ادائیگی اور تو بہ اور استغفار کی مستقل عادت جہنم کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کر دے گی۔جنت اور جہنم کی حقیقت جنت اور جہنم کی حقیقت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : مذہب سے غرض کیا ہے!! بس یہی کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کاملہ پر یقینی طور پر ایمان حاصل ہو کر نفسانی جذبات سے انسان نجات پا جاوے اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا ہو۔کیونکہ درحقیقت وہی بہشت ہے جو عالم آخرت میں طرح طرح کے پیرایوں میں ظاہر ہوگا۔اور حقیقی خدا سے بے