خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 411

خطبات مسرور جلد 13 411 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء کرو۔خدا تعالیٰ جو ان دنوں میں اپنے بندوں پر خاص مہربان ہوتا ہے اس کی رحمت کے دونوں فیض جاری ہیں۔ایک عام فیض جس سے مومن اور غیر مومن سب حصہ لیتے ہیں اور ایک خاص فیض جو محسنین کے ساتھ مخصوص ہے اس سے بھی ہم حصہ پانے والے ہوں کہ اس فیض سے حصہ لینے کے لئے جو محسنین سے مخصوص ہے جہاں ایک مومن نیکیوں کے بجالانے کے لئے طاقت پکڑنے کی کوشش کرے وہاں استغفار سے اللہ تعالی کی روشنی سے روشنی لے اور اللہ تعالیٰ کی طاقت سے طاقت پکڑے تا کہ کبھی اللہ تعالیٰ کی روشنی سے محروم ہو کر اندھیروں میں نہ بھٹکنے لگے یا اللہ تعالیٰ کی طاقت سے بے فیض ہو کر شیطان کی جھولی میں نہ جاگرے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کی طاقت ساتھ نہ ہو تو شیطان کے حملے بڑے سخت ہیں۔وہ فوراً اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اس لئے استغفار کرنا بہت ضروری ہے تا کہ انسان اللہ تعالیٰ سے طاقت پکڑے اور شیطان سے ہمیشہ بچار ہے۔پس فرمایا کہ انسان فطرتا کمزور ہے اور اس کمزوری سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی طاقت سے طاقت لینے کے لئے استغفار ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ انسان کو اپنی نیکیوں پر قائم رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو اپنے اوپر ہمیشہ قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے سہارے کی ضرورت ہے اس کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے اور اللہ تعالیٰ نے اپنا نام قیوم رکھ کر اس طرف ہمیں توجہ دلائی ہے۔اس کی یہ صفت ہے کہ نیکیوں کو جاری رکھنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت سے ہمیشہ حصہ لینے کے لئے اللہ تعالیٰ کے سہارے کی ضرورت ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی صفت قیومیت ہی بتا رہی ہے کہ تم نے اگر ہمیشہ کسی چیز کو جاری رکھنا، قائم رکھنا ہے تو تمہیں بہر حال میرے سہارے کی ضرورت ہے۔میری طرف آؤ۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سہارے کو کبھی نہ چھوڑ و جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہے، قائم کرتا ہے اور سب سے مضبوط سہارا ہے۔پس ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ درمیانی عشرہ کے مغفرت کا عشرہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں جتنی استغفار کرنی ہے کر لو اور تم نے اتنا کرنے سے اپنے مقصود کو پا لیا۔بلکہ اس طرف ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ دلائی ہے کہ رمضان آیا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوا۔تمہاری توجہ بھی روزوں اور دعاؤں کی طرف ہوئی تو اب اپنی نیکیوں کو جاری رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے مستقل حصہ لینے کے لئے اپنی فطری کمزوریوں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرتے