خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 409

خطبات مسرور جلد 13 409 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 جولائی 2015ء بنیں لیکن ان کے حصول کے لئے ہم اس مقام کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے یا اکثریت ہم میں سے نہیں کرتی یا با قاعدگی سے ہم کوشش نہیں کرتے جو ایک مومن کو کرنی چاہئے۔ہم اس بات پر تو خوش ہو جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے عشرے میں سے ہم گزرے لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ اس رحمت کے حصول کے لئے ہم نے کیا کیا یا ہمیں کیا کرنا چاہئے تھا۔کیا ہم ان گناہگاروں اور جرائم پیشہ کی طرح رہے جو وقتی آہ وزاری کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کر کے اس سزا سے بچ گئے جو کسی کو کسی خاص جرم کی وجہ سے ملنی تھی یا بعض جرائم کی وجہ سے ملنی تھی۔یا ہم محسنین میں شمار ہو کر اپنی زندگیوں کو اس طرح ڈھالنے والے بننے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمیشہ تقویٰ پر قائم رہنے کا عہد کرتے ہیں، جو ہمیشہ دوسروں کے ساتھ نیکیاں بجا لانے کا عہد کرتے ہیں، جو رمضان کو اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا مستقل ذریعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بناتے ہیں۔پس ہمیں اس رحمت کو جذب کرنے کی کوشش کی ضرورت ہے اور کوشش کرنی چاہئے جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے نہ کہ عارضی اور وقتی طور پر سزا سے بچالے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ہم پہلی حالت میں آجائیں۔اس ایک لفظ رحمت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری زندگی کے لئے لائحہ عمل کا ایک خزانہ عطا فرما دیا کہ رمضان کے پہلے دس دن میں اس رحمت کی تلاش کرو اور جب یہ رحمت تلاش کر لوتو پھر یہ عہد کرو کہ اس کو ہم نے اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ایک مومن کے لئے دس دن کی تربیت پھر اگلے راستے دکھائے گی۔لیکن کیونکہ شیطان ہر وقت ہمارے ساتھ لگا ہوا ہے جو اپنے کاموں میں مصروف ہے، ورغلانے کے کام میں مصروف ہے، نیکیوں سے ہٹانے کے کام میں مصروف ہے اس لئے اس رحمت کو حاصل کرنے کے بعد اس پر قائم رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے اور یہ مدد حاصل کرنے کے لئے ہم نے کیا طریق اختیار کرنا ہے۔فرمایا کہ اگلے دس دن پھر اللہ تعالیٰ کی اس مدد اور طاقت کو تلاش کروتا کہ تمہارے عمل مستقل عمل بن جائیں اور وہ طاقت ہے استغفار۔آپ نے فرمایا کہ دوسرا عشرہ مغفرت کا عشرہ ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ آہ وزاری کرنے والے کے گناہ بخشتے ہوئے اسے اللہ تعالیٰ اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لیتا ہے اور ان پر رحمت اور فضل کرتا ہے۔لیکن مومن وہ ہے جو اس ستاری اور رحمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے جس کا اظہار اس کی عبادتوں سے بھی ہو اور دوسرے اعمال سے بھی ہو اور مستقل استغفار کرتے ہوئے ہو۔اپنے اعمال پر نظر ڈالتے ہوئے ہو۔اور جب یہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت ہمیں اپنی لپیٹ میں لیتی چلی جائے گی۔