خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 402
خطبات مسرور جلد 13 402 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء بلکہ ان کو احسان کرنے کے اسلوب سکھائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی حالت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنی ذات کی خاطر اپنے اوپر ہونے والی کسی زیادتی کا انتقام نہیں لیا۔(صحیح بخاری کتاب المناقب باب صفة النبي مال العلم حدیث 3560) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔بہت بُری طرح سنتا یا گیا مگر ان کو آخرِضْ عَنِ الْجَهِلِينَ (الاعراف : 200 ) کا ہی خطاب ہوا۔خود اس انسان کامل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بری تکلیفیں دی گئیں اور گالیاں ، بدزبانی اور شوخیاں کی گئیں مگر اس خلق مجسم ذات نے اس کے مقابلہ میں کیا کیا۔ان کے لئے دعا کی اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ جاہلوں سے اعراض کرے گا تو تیری عزت اور جان کو ہم صحیح و سلامت رکھیں گے اور یہ بازاری آدمی اس پر حملہ نہ کر سکیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف آپ کی عزت پر حرف نہ لا سکے اور خود ہی ذلیل و خوار ہو کر آپ کے قدموں پر گرے یا سامنے تباہ ہوئے۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 103 ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس غلام صادق کا اپنا نمونہ کیا ہے۔اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں کہ ڈاکٹر مارٹن کلارک کے اقدام قتل والے مقدمے میں مولوی محمد حسین بٹالوی عیسائیوں کی طرف سے گواہ کے طور پر پیش ہوئے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وکیل مولوی فضل دین صاحب جو ایک غیر احمدی لیکن شریف الطبع انسان تھے ، وہ مولوی محمد حسین کی شہادت کو کمزور کرنے کے لئے عدالت میں ان سے یعنی مولوی صاحب سے بعض ایسے سوال کرنے لگے جو ان کے حسب نسب کے بارے میں طعن آمیز تھے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے وکیل کو فوری روک دیا کہ میں مولوی صاحب پر ایسے سوال کرنے کی آپ کو اجازت نہیں دیتا اور یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنا ہاتھ فوری طور پر مولوی فضل دین صاحب وکیل کے منہ پر رکھ دیا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 543 حاشیہ)