خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 392 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 392

خطبات مسرور جلد 13 392 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء اس کے خلاف ہے یا اس سے دُور ہے تو پھر بڑے خوف کا مقام ہے اور استغفار کی ضرورت ہے۔ویسے بھی استغفار کرنا چاہئے لیکن اس حوالے سے بہت زیادہ استغفار کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔یہاں ہم میں سے ہر ایک پر یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ کسی بھی عہدیدار کو یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ نصیحت کرنا میرا کام نہیں۔یہ تو صرف امیر جماعت یا صدر جماعت یا سیکرٹری یا مربی یا ایک دو دوسرے سیکرٹریان کا کام ہے یا اسی طرح صدر انصار اللہ یا ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے یا صدر خدام الاحمدیہ یا ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے یا لجنہ کی صدر اور ان کے تربیتی شعبہ کا کام ہے۔نہیں، بلکہ ہر سیکرٹری چاہے وہ سیکرٹری ضیافت ہے یا ذیلی تنظیموں میں خدمت خلق یا کھیلوں کا نگران ہے، کوئی بھی ہے اگر وہ کسی بھی صورت میں خدمت انجام دے رہا ہے تو اس کا کام ہے کہ اپنے نمونے قائم کرے۔اور اگر یہ ہو جائے تو پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ پچاس فیصد سے زیادہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلنے والی بن سکتی ہے۔چاہے وہ مسجدوں میں نمازوں کی حاضری ہو یا دوسری قربانیوں اور حقوق العباد کا معاملہ ہو۔پس ہر سطح پر جماعت کی خدمت کرنے والا پہلے تو اپنے اندر دیکھے کہ ان احکامات کی کس حد تک میں پابندی کر رہا ہوں۔ان کی جگالی کر کے اپنی حالت بہتر بنائے اور پھر دوسرے کو بتائے۔اس طرح ہر احمدی کا بھی فرض ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو دیکھے اور دہرائے اور بار بار سامنے لائے۔اگر ہم اس طرح کرنا شروع کر دیں تو ایک عظیم انقلاب ہے جو ہم لا سکتے ہیں اور نہ صرف اپنی اصلاح کرنے والے ہو سکتے بلکہ دنیا کو حقیقی اخلاق کے معیاروں کا پتا دے سکتے ہیں۔پس اس طرف ہمیں خاص طور پر توجہ دینی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات تلاش کر کر کے ان پر عمل کرنا چاہئے۔گزشتہ خطبہ میں میں نے بعض باتوں کا ذکر کیا تھا جو ایک مومن کا خاصہ ہونی چاہئیں۔آج بھی میں بعض باتیں پیش کروں گا۔رمضان کا مہینہ بندے کی اصلاح کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔یہ مہینہ جہاں ہمیں ہماری عبادتوں کی طرف توجہ دلانے کا مہینہ ہے وہاں ہماری کمزوریوں کی طرف توجہ دلانے اور ان کی اصلاح کا بھی مہینہ ہے۔پس اس مہینے میں ہمیں اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حکموں کی جگالی کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہم بھر پور طور پر اس کے لئے کوشش نہیں کر رہے تو رمضان کی سحریوں اور افطاریوں سے ہی استفادہ کر رہے ہوں گے، کوئی عملی اثر