خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 393 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 393

خطبات مسرور جلد 13 393 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 جولائی 2015ء ہم پر نہیں ہو رہا ہو گا جو ہمارے روحانی اور تربیتی معیاروں کو بلند کر رہا ہو۔اسی طرح ہوں گے جس طرح بعض لوگوں کے بارے میں لطیفے مشہور ہیں کہ روزے رکھنے کا پوچھو تو عذر ہو جاتا ہے۔نفل اور تراویح کا پوچھو تو عذر پیش کرتے ہیں۔نمازیں پڑھنے کے بارے میں کہا جائے باجماعت پڑھو تو عذر ہوتا ہے۔اور جب افطاری کے بارے میں کہو تو پھر کہیں گے ہاں ہاں ضرور ہم نے کرنی ہے۔ہم بالکل ہی کا فر تو نہیں ہو گئے۔تو ہمیں ایسے مومن نہیں بننا چاہئے۔پھر یہی لوگ ہیں جو دین کو مذاق بناتے ہیں اور یہ لطیفے سے زیادہ مسلمانوں کی حالت زار کا نقشہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والوں کے معیار بہت بلند اور بہت اونچے ہونے چاہئیں۔بغیر کسی جائز عذر کے روزے بھی نہیں چھوٹنے چاہئیں اور اسی طرح رمضان کا جو عبادت کا مقصد ہے وہ بہترین رنگ میں پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اسی طرح رمضان کے ساتھ قرآن کریم کا زیادہ پڑھنا بھی مسنون ہے اور جبرئیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاص طور پر رمضان میں قرآن کریم کا دور کرواتے تھے۔(صحیح بخاری کتاب بدء الوحی باب كيف كان بدء الوحي الى رسول الله الله۔۔۔حديث (6) پس خاص طور پر قرآن کریم کی تلاوت کی طرف ہمیں ہر ایک کو توجہ دینی چاہیئے اور اس میں سے پھر احکامات کی تلاش کر کے ان کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تراویح کی جو نماز ہوتی ہے، یہ بیشک فرض نہیں ہے۔یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اس لئے شروع ہوئی تھی کہ جو لوگ تہجد نہیں پڑھ سکتے ان کی نفلی عبادت بھی ہو جائے۔نفل نماز بھی ادا ہو جائے اور قاری کے ذریعہ سے وہ قرآن کریم بھی سن لیں۔لیکن جو تہجد پر اٹھ سکتے ہیں ان کو تہجد بھی پڑھنی چاہئے۔آجکل کیونکہ وقت تھوڑا ہوتا ہے اس لئے چاہے تھوڑی ہی پڑھیں لیکن پڑھنی چاہئے۔جو بھی روزہ رکھنے کے لئے جاگے گا یا اس وقت جاگتا ہے تو ادھر ادھر کی باتیں کرنے کی بجائے پہلے نفل پڑھنے چاہئیں۔تراویح روزے کے ساتھ کوئی لازمی شرط نہیں ہے اور تہجد بھی گولازمی شرط نہیں ہے لیکن نوافل بہر حال ادا کرنے چاہئیں۔مومنین کو تہجد پڑھنے کا عام حالات میں بھی حکم ہے یا تلقین کی گئی ہے۔یہ وضاحت میں نے اس لئے کر دی ہے کہ کسی نے مجھے کہا تھا کہ شاید روزہ رکھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم آٹھ رکعت یا تراویح پڑھے یا تہجد پڑھے تو یہ واضح کر دوں کہ تہجد یا تراویح روزے کے لئے کوئی شرط نہیں ہے۔ہاں عبادتیں ضروری ہیں۔نوافل پڑھنے چاہئیں جب وقت ملے۔اور روزے