خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 390
خطبات مسرور جلد 13 390 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔دوسرے بیٹے خدمت سلسلہ بجالا رہے ہیں۔آپ کی بیٹی ربوہ میں مقیم ہیں۔دوسرا جنازہ مکرم مولوی محمد احمد ثاقب صاحب واقف زندگی، سابق استاد جامعہ احمد یہ ربوہ کا ہے جو 18 مئی 2015ء کو مختصر علالت کے بعد 98 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔آپ حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے اور حضرت حکیم محمد عبد العزیز صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔مڈل تک اپنے آبائی گاؤں بھینی شرقپور ضلع شیخو پورہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد قادیان چلے گئے اور جامعہ احمد یہ قادیان سے مولوی فاضل کیا۔1939ء میں زندگی وقف کی تو حضرت مصلح موعود نے محترم ملک سیف الرحمن صاحب مرحوم کے ساتھ آپ کو دہلی کے ایک مشہور مدرسہ میں فقہ اور حدیث میں تدریس کی ٹرینگ کے لئے بھجوا دیا۔اس کے بعد دیو بند ، سہارنپور اور لاہور سے بھی فقہ کی تعلیم حاصل کی۔پارٹیشن سے قبل آپ کو کچھ عرصہ تک دفتر امور عامہ اور پھر دفتر وصیت میں خدمت کی توفیق ملی۔پاکستان میں جامعہ احمد یہ قائم کیا گیا تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو اس میں استاد مقرر فرما یا جہاں چالیس سال تک آپ کو فقہ اور حدیث کے مضامین پڑھانے کی توفیق ملی۔آپ نے فقہ کی مشہور کتاب ”بدایۃ المجتہد کے ایک حصہ کا اردو ترجمہ کیا جو ہدایۃ المقتصد کے نام سے جماعت کی طرف سے شائع ہوا۔اسی طرح آپ کو دارالقضاء ربوہ میں قاضی اور ایک سال ناظم دارالقضاء کی حیثیت سے بھی خدمت کا موقع ملا۔آپ دعا گو، منکسر المزاج اور دھیمی طبیعت والے ایک نیک اور مخلص انسان تھے۔آپ کے بیسیوں شاگر دا کناف عالم میں مختلف اعلیٰ حیثیتوں سے جماعت کی خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں سات بیٹیاں اور چار بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان دونوں کے درجات بلند فرمائے ، مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 17 جولائی 2015 ء تا 23 جولائی 2015 ، جلد 22 شماره 29 صفحہ 05 08)