خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 383 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 383

خطبات مسرور جلد 13 383 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء نبیوں کے سردار نے فرمایا کہ مجھے موسیٰ پر فوقیت نہ دو۔(صحیح بخاری کتاب الخصومات باب مايذكر في الاشخاص و الخصومة۔۔۔حديث 2411) یہ ہے وہ عظیم اُسوہ جس سے معاشرے کا امن قائم ہوتا ہے۔پس یہ جواب ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو اس امن ، آشتی اور صلح کے بادشاہ پر الزام لگاتے ہیں کہ آپ کی وجہ سے دنیا کا امن برباد ہورہا ہے۔اور یہ ان لوگوں کے لئے بھی اُسوہ ہے اور سبق ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ظلم اور بربریت کی وارداتیں کر رہے ہیں۔لیکن ہم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں اس وقت اس عملی دنیا میں ان الزام لگانے والوں کے الزاموں کو رڈ کرنے کی ذمہ داری ہمارے سپرد ہے۔اگر ہمارا دعویٰ حقیقی مسلمان ہونے کا ہے تو اس حقیقی تعلیم کا نمونہ بھی ہمیں بننے کی کوشش کرنی چاہئے جس کو ماننے کا ہم دعویٰ کرتے ہیں اور یہ باتیں جہاں ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی ہوں گی وہاں ہم اسلام کی خوبصورت تعلیم کو پھیلانے والے بن کر دنیا کے رہبر بن سکیں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نصیحت فرماتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے لئے اس طرح عاجزی اختیار کی اور یہ فرماتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی کو زمین پر لگا دیا، تو اس کو میں اتنا بلند کروں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اتنا بلند کروں گا۔اور یہ بیان کرتے ہوئے آپ نے اپنی ہتھیلی کو اونچا کیا اور بہت اونچا کر دیا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 1 صفحه 170 مسند عمر بن الخطاب له حدیث 309 مطبوعه بيروت 1998ء) پس جو خدا تعالیٰ کی خاطر عاجزی دکھائے، جو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے تکبر سے نفرت کرے، جو خدا تعالیٰ کی خاطر معاشرے سے نفرتوں کے پیچ ختم کرنے کی کوشش کرے تا کہ امن اور سلامتی قائم ہوا سے خدا تعالیٰ وہ بلندیاں عطا فرماتا ہے جو انسان کے وہم و گمان سے بھی باہر ہیں۔یہ دن ہمیں خدا تعالیٰ نے ہماری اصلاح کے لئے مہیا فرمائے ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا ان دنوں میں ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اپنے گھروں کے جھگڑوں کو خدا تعالیٰ کی خاطر ختم کر کے سلامتی اور امن کی فضا ہر احمدی کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے بھائیوں سے جھگڑوں کو ختم کر کے جن کی بنیادا کثر آنا اور تکبر ہی ہوتی ہے معاشرے میں سلامتی پھیلانے کی ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔مخالفین کی باتوں پر صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی ہدایت کے لئے دعائیں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کا فساد بھی ختم ہو۔ہم امن اور سلامتی اور محبت کو دنیا میں قائم کرنے کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن حقیقت اس وقت سامنے آتی