خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 380 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 380

خطبات مسرور جلد 13 380 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 جون 2015ء زندگیوں کو خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق گزارنا ہے۔پس رمضان کے اس خاص ماحول میں ہمیں یہ جائزے لینے چاہئیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کو کس حد تک اپنی زندگیوں کا حصہ بنارہے ہیں۔اگر یہ نہیں تو ہمارے یہ زبانی دعوے ہوں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کو قبول کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار حکم دیئے ہیں ہمیں ہمیشہ ان حکموں کو سامنے لاتے رہنا چاہئے تا کہ اصلاح نفس کی طرف ہماری توجہ رہے۔عباد الرحمان اور احمدی کا معیار اللہ تعالیٰ نے جو احکامات دیئے ہیں اس وقت میں ان میں سے بعض باتیں پیش کرتا ہوں جو جہاں ہمارے نفس کے تزکیہ میں کردار ادا کرتے ہیں وہاں معاشرے میں پیار، محبت اور امن کی فضا پیدا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (الفرقان: 64) اور رحمان کے سچے بندے وہ ہوتے ہیں جو زمین پر آرام سے چلتے ہیں۔نرمی سے، وقار سے چلتے ہیں۔تکبر نہیں کرتے۔اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ لڑتے نہیں بلکہ کہتے ہیں ہم تو تمہارے لئے سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔پس مختصر طور پر اس عظیم اخلاقی اور روحانی انقلاب کی تعلیم کا نقشہ کھینچ دیا جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے اور آپ کے ماننے والوں نے ، آپ کے صحابہ نے ان اخلاق کو اپنے اندر پیدا کیا۔وہ زمانہ کہ جب دنیا اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی اور شیطان کے پنجے میں جکڑی ہوئی تھی۔آنا اور خود پسندی اور تکبر اور فتنہ و فساد نے دنیا کو تباہی کے گڑھے میں پھینکا ہوا تھا۔اس وقت انسان کو اعلیٰ اخلاق اور عاجزی اور انکساری کا نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درس دیا بلکہ ایسے انسان پیدا ہو گئے جو اس آیت کی عملی تصویر تھے۔آج بھی دنیا کی یہی حالت ہے اور اس زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کو بھیج کر آپ کو ایسے عباد الرحمن لوگوں کی جماعت بنانے پر مامور کیا ہے۔پس آپ کی جماعت کی طرف منسوب ہونے والے ہر شخص کو اس معیار کو اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔عباد الرحمان کے بارے میں جیسا کہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ ھونا۔کہ زمین پر آرام سے، وقار سے، عاجزی اور تکبر کے بغیر چلتے ہیں۔پس ایک حقیقی عبد رحمان کو اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس میں عاجزی بھی ہو ، وقار بھی ہو اور تکبر سے پاک بھی ہو۔جب ایسی حالت ہو تو پھر ایسے لوگ معاشرے میں محبت پھیلانے والے اور اس کے امن کی ضمانت بن جاتے ہیں۔ان کا یہ وقار اور عاجزی جاہلوں کے غلط عمل اور فساد پیدا کرنے کی کوشش پر ان سے یہ جواب کہلواتا