خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 371
خطبات مسرور جلد 13 371 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جون 2015ء ہیں۔انشاء اللہ۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہم عاجزی اور انکساری دکھائیں گے، اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ کو پانے کی کوشش کریں گے تو پھر پھل بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے لگیں گے۔انسان میں غلطیاں بھی ہوں۔گناہگار بھی ہو، وہ قصور وار بھی ہو مگر جب تک اس کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف رہے ،غلطیوں کا اعتراف کرتا رہے، تقویٰ دل میں ہو تو اللہ تعالی گناہوں کو ڈھانپتا چلا جاتا ہے اور آخر کار ایک دن اسے تو بہ کی توفیق دے دیتا ہے۔پس سب سے زیادہ ان دنوں میں اپنے لئے، اپنے رشتہ داروں کے لئے، افراد جماعت کے لئے یہ دعا ہمیں کرنی چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ نصیب ہو۔ایک دوسرے کے لئے جب ہم درد سے دعائیں کریں گے تو فرشتے بھی ہمارے لئے دعاؤں میں شامل ہو جائیں گے اور رمضان کی برکات کے حقیقی اور مستقل نظارے بھی ہم دیکھنے والے ہوں گے۔تقویٰ کیا ہے؟ تقویٰ خدا تعالیٰ کی خشیت اور خوف ہے اور جب تک ہم میں خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت رہے گی ہماری کمزوریوں اور گناہوں کی بھی خدا تعالیٰ پردہ پوشی فرماتا رہے گا اور ہم اس کی حفاظت میں رہیں گے سوائے اس کے کہ ہم گناہوں پر اتنے دلیر ہو جائیں ( خدا نہ کرے کوئی ہم میں سے ہو ) کہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہمارے دلوں سے مٹ جائے یا کسی کے دل سے بھی مٹ جائے لیکن اگر ہماری کمزوری کی وجہ سے گناہ سرزد ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور خشیت پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کی خشیت کے معنی ہی خدا تعالیٰ کی محبت کے ہیں۔پس جب تک ہم اس محبت کے اظہار کرتے رہیں گے یا اگر اپنے دل میں بھی ہم یہ محبت رکھتے ہوں گے تو تباہی سے بچے رہیں گے۔لیکن شرط یہ ہے کہ سچی محبت ہو، دھو کہ نہ ہو۔اللہ تعالیٰ دلوں کا حال جانتا ہے اسے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔اگر دل میں بھی محبت ہے تو کبھی نہ کبھی اس کا اظہار ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا خوف بعض چیزوں سے روکے رکھتا ہے۔اس محبت کی وجہ سے گرتے پڑتے اس کے حکموں پر ہم عمل کرتے رہیں گے تو خدا تعالیٰ جو اپنے بندوں کی محبت کی غیرت رکھتا ہے وہ بندے کو پھر ضائع نہیں ہونے دیتا اور اسے توبہ کی توفیق دے دیتا ہے۔لیکن اگر انسان جیسا کہ میں نے کہا بالکل ہی گناہوں پر دلیر ہو جائے اور تقویٰ کا بیج بالکل اپنے دل سے نکال کر ضائع کر دے تو پھر سز املتی ہے۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مانا۔آپ نے بار بار جماعت کے افراد کو تقویٰ پر قائم رہنے کی نصیحت فرمائی ہے۔پھر ایسا روحانی نظام اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا جو تقویٰ کے بیج کو قائم رکھنے کے لئے توجہ دلاتا رہتا ہے۔پھر رمضان کا مہینہ ہر