خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 370 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 370

خطبات مسرور جلد 13 370 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 19 جون 2015ء کیونکہ پہلی قومیں روزہ رکھتی تھیں اس لئے تم بھی رکھو۔بلکہ (مطلب ) یہ ہے جو اس آیت کے آخر میں کہا گیا کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو اور روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے بچو۔پھر اس جگہ اس آیت کے آخر میں جو میں نے پڑھی ، فرمایا کہ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔تا کہ رشد حاصل کرو۔رُشد کا مطلب ہے صحیح اور سیدھا راستہ۔صحیح عمل اور رہنمائی کا راستہ، صحیح اخلاق۔عقل و ذہانت کی بلوغت اور صحیح راستے پر اس کا استعمال اور اپنی اس حالت میں ہمیشگی اور پختگی حاصل کرنا۔پس جب انسان خدا تعالیٰ کے آگے خالص ہو کر جھکتا ہے تو جہاں دعاؤں کی قبولیت کا نظارہ کرتا ہے وہاں تقویٰ اور نیکی پر قائم رہتے ہوئے اپنے ایمان وایقان میں بھی مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے اور یوں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والا بنتا ہے۔پس رمضان بے شمار برکتوں کا مہینہ ہے لیکن یہ برکتیں انہیں ملتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکموں کو قبول کریں اور ایمان میں بڑھیں۔اگر صرف یہی نیت ہے کہ رمضان کے جمعوں پر باقاعدگی اختیار کرلو اور بعد میں چاہے عبادتوں کی طرف توجہ ہو یا نہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو قبول نہ کرنا ہے اور ایمان میں کمزوری دکھانا ہے۔اور اگر اس طرح کی کمزور حالت ہے تو پھر ہمیں خدا تعالیٰ سے یہ شکوہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔پس ایک حقیقی بندہ کو جو اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کے لئے بے چین ہے انتہائی عاجزی اور انکساری سے اور اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ دن دعاؤں میں گزارنے چاہئیں۔رمضان کے مہینے میں یہ جمعوں پر حاضری اور نمازوں پر حاضری عارضی نہ ہو۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ان دنوں میں قریب آ جاتا ہوں اس لئے ان دنوں کی عبادت ہی کافی ہے۔یہ اپنے نفس کو دھوکے میں ڈالنے والی بات ہے۔پس اس سے ہمیں بچنا چاہئے۔کامل عاجزی سے خدا تعالیٰ کا عبد بنتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قرب کو پانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ تو کبھی بھی دور نہیں وہ تو ہر جگہ اور ہر وقت ہے لیکن بندے کی اپنی حالت سے اس قربت کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب وہ خالص ہو کر غیر اللہ کو چھوڑ کر صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے آگے ہی جھکتا ہے۔اور جب یہ حالت ہوگی پھر ہماری دعائیں بھی قبول ہوں گی اور ہمیں وہ سب کچھ ملے گا جو اللہ تعالیٰ سے ہم مانگتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہمارے لئے بہترین ہے۔پس ہمیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ نیکی اور تقویٰ پر قائم ہو کر ہی ہم اپنے مقصود کو پاسکتے ہیں اور ذاتی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی ہمیں وہ پھل ملیں گے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر کئے ہوئے