خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 362 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 362

خطبات مسرور جلد 13 362 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 12 جون 2015ء آپ کی رہنمائی کرے۔جلسے کے دوسرے روز جو میرا خطاب تھا اور اس کے بعد تبلیغی مہمانوں کے ساتھ میٹنگ تھی۔پتا نہیں یہ اس میں شامل تھے کہ نہیں بہر حال خطاب والے روز ہی کہتے ہیں ہمارے مبلغ سے کہا کہ مجھے قرآن کریم سے مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی صرف ایک دلیل دے دیں۔ہمارے مبلغ نے ان کو دلیل دی اور بعض پیشگوئیاں اور جماعت کی ترقی کے بارے میں بھی بات کی۔کہنے لگے میں بیعت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نشان دکھا دیا ہے۔کہنے لگے کہ رات میں نے اللہ تعالیٰ سے بڑے تضرع اور الحاح سے دعا کی اور رات کو جب سویا تو خواب میں دیکھا کہ بڑی سی دیوار پر جلی حروف میں اَلْاَحْمَدِية لکھا ہوا ہے اور اس میں غیر معمولی نور پھوٹ رہا ہے۔اور اسی طرح جب میں جرمن سے خطاب کر رہا تھا تو کہتے ہیں کہ اس دوران ہی میں نے دل میں نشان مانگا تھا۔تو کہتے ہیں کہ اس دوران ہی میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش خلیفہ اسیح کے ساتھ اور آ۔کے قرب میں کھڑے ہونے کا موقع ہوتا یا اس وقت مجھے موقع مل جائے تو کہتے ہیں کچھ دیر کے بعد ایسے محسوس ہوا جیسے ایک لمحے کے لئے مجھ پر غنودگی سی طاری ہوئی ہے اور میں نے دیکھا کہ میں سٹیج میں خلیفہ امسیح کے پہلو میں کھڑا ہوں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ حق میرے پر کھل گیا۔کہتے ہیں قرآن شریف کی دلیل تو میں نے محض انشراح ، اطمینان کے لئے مانگی تھی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ دعا کے بعد اور اس خواب کے بعد میری تسلی ہوگئی تھی۔چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی۔اسی طرح الجزائر کے ایک دوست ہیں۔کہتے ہیں کہ ہر بار جلسے میں شرکت میرے ایمان میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنتی ہے اور ہر بار خدا تعالیٰ کی بے بہا نصرتوں کے نظارے دیکھتا ہوں۔جلسے میں مجھے محسوس ہوا جیسے میں جنت میں ہوں۔یہاں زبانوں اور طبیعتوں اور قوموں کے اختلاف کے باوجود ہر طرف سے السلام علیکم کی آواز اہل جنت کے بارے میں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا قول ہے تَحِيَّعُهُمْ فِيهَا سَلَام۔اس کی یاد دلاتی ہے۔اٹلی سے آنے والے ایک عیسائی مہمان تھے۔یہ اٹلی کی ایک تنظیم ہے Religion for peace ، اس کے جنرل سیکرٹری ہیں اور ویٹیکن سٹی میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ کیتھولک تھیالوجی کے بارے میں مختلف کتب بھی لکھ چکے ہیں۔یہ بڑا اچھا اثر لے کر گئے بلکہ انہوں نے واپس اٹلی جا کر مضمون لکھا۔ان کا ایک اپنا رسالہ ہے جسے ہزاروں کی تعداد میں لوگ پڑھتے ہیں۔مضمون میں انہوں نے تحریر کیا کہ مجھے اعتراف کرنا پڑے گا کہ جلسہ سالانہ کا منظر نہایت حیران کن تھا۔انسان کی نظر جب بڑے