خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 352
خطبات مسرور جلد 13 352 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 جون 2015ء رہے ہیں۔پس اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔بعض باتوں کی طرف میں توجہ بھی دلاتا ہوں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں بتائی ہیں۔ایک بات تو بنیادی ہے کہ قرآن کریم کا ہر حکم ہمارے اندر تبدیلی پیدا کرنے والا ہونا چاہئے اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی وضاحت فرمائی ہے وہ ایک نئی زمین اور نیا آسمان ہمارے اندر بنانے والا ہے اور پھر اس کو اختیار کر کے اس پر عمل کر کے ہم میں سے ہر ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنا سکتا ہے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : میں دیکھتا ہوں کہ لوگوں کی یہ حالت ہو رہی ہے کہ وہ تدبیریں تو کرتے ہیں مگر دعا سے غفلت کی جاتی ہے بلکہ اسباب پرستی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ تدابیر دنیاہی کو خدا بنا لیا گیا ہے اور دعا پر جنسی کی جاتی ہے اور اس کو ایک فضول شئے قرار دیا جاتا ہے۔یہ خطرناک زہر ہے جو دنیا میں پھیل رہا ہے۔مگر خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس زہر کو دور کرے۔چنانچہ یہ سلسلہ اس نے اسی غرض کے لئے قائم کیا ہے تا دنیا کو خدا تعالیٰ کی معرفت ہو اور دعا کی حقیقت اور اس کے اثر سے اطلاع ملے۔“ ( ملفوظات جلد 6 صفحہ (269) ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 25) پس اس غرض کو ہر احمدی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تعلق باللہ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔پھر آپ نے فرمایا۔یہ زمانہ بھی روحانی لڑائی کا ہے۔شیطان کے ساتھ جنگ شروع ہے۔شیطان اپنے تمام ہتھیاروں اور مکروں کو لے کر اسلام کے قلعہ پر حملہ آور ہورہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسلام کو شکست دے مگر خدا تعالیٰ نے اس وقت شیطان کی آخری جنگ میں اس کو ہمیشہ کے لئے شکست دینے کے لئے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔“ پس اس روحانی لڑائی کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک ہم اپنی روحانیت کے نئے زمین و آسمان پیدا نہ کریں۔آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ شیطان کو شکست دینے کے لئے اس سلسلے کو قائم کیا ہے۔اپنے ہر ماننے والے پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ روحانیت میں ترقی کر کے شیطان کا مقابلہ کرے اور پھر حقوق العباد کے معیاروں کو حاصل کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: اس بات کو بھی خوب یا درکھو کہ خدا تعالیٰ کے دوحکم ہیں۔اول یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔نہ اس کی ذات میں، نہ صفات میں، نہ عبادات میں۔اور دوسرے نوع انسان سے