خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 348
خطبات مسرور جلد 13 348 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 05 جون 2015ء مارتا بھی تھا، حقوق غصب کرتا تھا لیکن جائز سمجھ کر۔اب یہ سب کچھ کرتا ہے اور ساتھ نعرہ لگاتا ہے کہ یہ جائز نہیں۔عمل وہی ہے لیکن ظاہری اقرار بدل گئے ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود دجلد 14 صفحہ 317-316) تو ہر میدان میں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ایک انقلاب پیدا ہوا ہوا نظر آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا کہ جانوروں سے بدتر انسانوں کو انسان بنایا۔پھر تعلیم یافتہ انسان بنایا۔پھر با خدا انسان بنایا۔(ماخوذ از لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 206) تو یہ ایک عظیم معجزہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور میں آیا۔ان با خدا انسانوں نے ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق کرنا شروع کر دیا۔پس یہی نئی زمینیں اور نیا آسمان تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے بنا اور اس زمانے میں آپ کے غلام صادق کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ نئی زمین اور نیا آسمان بناؤ۔کیا جو حالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمانوں کے تھے یا جو حالت روحانی اور اخلاقی ان کی تھی وہی حالت اب ہے؟ نہیں۔بلکہ جو آپ کے آنے سے پہلے جہالت تھی وہ جہالت یہاں نئے سرے سے پیدا ہو چکی ہے۔تبھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق مسیح موعود اور مہدی موعود کو بھیجا تھا۔ایک زمانہ تھا جب مسلمانوں نے توحید کی خاطر جانیں دیں۔ہر قسم کی قربانیاں دیں۔اسلام کو پھیلایا اور دنیا میں ایک نمایاں تغیر پیدا ہو گیا۔لیکن اب مسلمان تو حید کے بجائے قبروں کو سجدے کرتے ہیں۔مردوں سے مرادیں مانگتے ہیں۔شرک میں مبتلا ہیں۔لا إلهَ إِلَّا اللہ تو اب بھی ہے لیکن اب وہ کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے جاننے والے یا ماننے والے اس کا مطلب اور مفہوم نہیں جانتے۔ان کا مسلمان ہونا برائے نام ہے۔ایسے بھی ہیں جو بیشک پانچ دفعہ عبودیت کا ظاہری اقرار کرتے ہیں۔نماز اور اذان میں توحید کی شہادت دیتے ہیں۔لیکن حرکتیں مشرکانہ ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحہ 315) اچھے بھلے بعض پڑھے لکھے لوگ ہیں بلکہ پاکستان میں تو کئی پڑھے لکھے ہیں وزیر سفیر بھی ہیں جو پیروں کے پاس جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ایسا سلوک ہے جس طرح پوجا کی جاتی ہے۔اکثریت تو نماز ہی نہیں پڑھتی۔صرف سمجھتے ہیں کہ احمدیوں کو کافر کہنے اور مولوی کے پیچھے چلنے سے ان کے مسلمان ہونے کے حق ادا ہو جائیں گے۔پھر اسلام کے نام پر شدت پسند تنظیمیں ہیں جو صرف ایک لفظ جہاد کو جانتی ہیں اور