خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 347
خطبات مسرور جلد 13 347 لیتی تھیں یا جس کے جھٹکے سے آپ ہوشیار ہو جاتی تھیں۔خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 جون 2015ء (صحیح بخاری کتاب التهجد باب مايكره من التشديد في العبادة حدیث 1150) ایک دوسرے کی خاطر قربانی کا معیار یہ تھا کہ اپنی جائیدادیں تک اپنے بھائیوں کو دینے کے لئے تیار تھے بلکہ پیش کیں۔لیکن دوسری طرف جن کو پیش کی گئی تھیں ان میں بھی ایک انقلاب آچکا تھا۔انہوں نے شکریہ کہہ کر یہ کہا کہ یہ تمہاری چیز تمہیں مبارک ہوں۔ہمیں بازار کا رستہ بتا دو۔(صحیح بخاری کتاب البیوع باب ماجاء فی قول الله عز وجل حديث 2049) کسی کے محتاج ہونے سے بہتر ہے کہ خود کما کر کھاؤں۔سچائی اور ایمانداری کے معیار یہ قائم ہوئے کہ ایک مسلمان سود بینار کا ایک گھوڑا دیہات سے خرید کر لایا۔جب وہ گھوڑا فروخت کے لئے بازار میں آیا تو دوسرے مسلمان نے کہا کہ یہ گھوڑا بہت اچھا ہے اس کی میرے نزدیک قیمت دوسو یا تین سودینار ہے۔ما لک کہتا ہے کہ اس گھوڑے کی قیمت سو دینار ہے میں زیادہ رقم کس طرح لے سکتا ہوں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 14 صفحہ 318) وہ لوگ جو مال سے محبت کرتے تھے اور زیادہ کمانے کے لئے دھوکے سے بھی مال وصول کر لیا کرتے تھے وہ لوگ سچائی کے اس معیار تک پہنچے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ میں اتنے پیسے کس طرح لے سکتا ہوں۔تو یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ایسے اعلیٰ معیار پیش کئے۔یہ وہ تغیر اور تبدیلی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کی۔پھر عورت کو حقوق دلائے۔اس کو عزت دلائی۔اس کی عزت قائم کی۔اسے معاشرے میں ایک مقام دلایا۔ایسے معاشرے میں جہاں عورت کی کوئی عزت نہیں تھی یہ بہت بڑی بات تھی بلکہ اب تک ہے۔مسیح موعود کی بعثت کی ضرورت اور اہمیت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ اس بارے میں آج کے معاشرہ اور پہلے معاشرہ کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک حقیقت بیان فرمائی ہے۔آج کا مرد معاشرہ بڑا نعرہ لگاتا ہے کہ ہم نے عورت کو حقوق دیئے اور یہ حقیقت ہے کہ پہلے معاشرے میں مرد عورت کو ستا تا تھا، مارتا پیٹتا تھا اور سمجھتا تھا کہ مار پیٹ جائز ہے اور آج بھی حسب سابق مرد عورت کو ستاتا اور پیٹتا ہے۔یورپ میں بھی ایسا ہوتا ہے اور دوسرے ممالک جو عورت کی آزادی کے بڑے نعرے لگاتے ہیں ان میں بھی ایسا ہوتا ہے۔بعض وکیل میرے سامنے بیٹھے ہوں گے ان کو پتا ہے کہ ایسے کیس آتے ہیں۔لیکن فرق یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود اب مرد یہ کہتا ہے کہ عورت کو ستانا اور پیٹنا جائز نہیں۔پہلے ستاتا بھی تھا، پیٹتا بھی تھا،