خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 344

خطبات مسرور جلد 13 344 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 05 جون 2015ء دے رہا ہے، جو لوگ جماعت میں اپنے ایمانوں میں جلاء پیدا کرنے کے لئے شامل ہو رہے ہیں، اپنے تعلق باللہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں وہ اس جلسہ میں شامل ہونے کے مقصد کو پورا کرنے والے بھی بنیں۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کرے کہ ان کے دل کھلیں مزید کھلتے چلے جائیں۔اس بات پر نظر رکھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسے کے انعقاد کے مقاصد کے لئے بیان فرمائی ہے۔یعنی خدا تعالیٰ سے تعلق اور اپنی زندگیوں کو اس کے حکم کے مطابق ڈھالنا۔اپنے بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ اور اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے کوشش۔یہ تمام باتیں اپنی حالتوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ڈھالنے اور ایک قربانی کا مطالبہ کرتی ہیں۔پس یہ جلسہ نہ کوئی دنیاوی میلہ ہے نہ دنیاوی مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔یہاں آنے والوں کو ایک تو ذکر الہی کی طرف توجہ دیتے رہنا چاہئے کہ یہ اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے اور اس کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔اور دوسرے یہ ہر وقت ذہن میں رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان نیکیوں کو حاصل کرنے اور اپنانے والے بنیں اور پھر انہیں مستقل اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے والے بنیں جن کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ذکر الہی کے ضمن میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ مجالس میں بیٹھنے والوں کا ذکر چاہے اپنے اپنے رنگ میں ہورہا ہو الگ الگ انفرادی طور پر ہر کوئی کر رہا ہو جماعتی رنگ رکھتا ہے اور جہاں انسان کی ذات کو اس سے فائدہ ہورہا ہوتا ہے وہاں جماعتی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔پس جلسے کی کارروائی سنتے ہوئے ، چلتے پھرتے ان دنوں کو ذکر الہی میں گزاریں اور پھر یہ بھی فائدہ ہے کہ جب انسان ذکر کر رہا ہوتا ہے، ایسی مجلس ہوتی ہے تو دوسروں کو بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔ایک دوسرے کو دیکھ کر وہ بھی اپنے ان دنوں کو با مقصد بنانے کے لئے کوشش کرتے ہیں۔بجائے اس کے کہ بے مقصد مجالس لگائی جائیں بے مقصد گفتگو کی جائے ان دنوں کو ہر ایک کو بامقصد بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ان دنوں کی عادت کا اثر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعد میں بھی کچھ عرصے تک تو رہتا ہے اور اگر انسان کی توجہ رہے تو پھر لمبا عرصہ رہتا ہے۔پس یہ جلسہ سالانہ کی برکات میں سے ہے کہ ایک شخص کی دعائیں اسے خود بھی فائدہ پہنچا رہی ہوتی ہیں اور جماعت کی مجموعی ترقی کا بھی باعث بن رہی ہوتی ہیں اور اسی طرح دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ دلانے اور جلسے کے مقاصد کو حاصل کرنے کا باعث بنارہی ہوتی ہیں۔پس اپنے ان دنوں کو ہر