خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 325
خطبات مسرور جلد 13 325 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء فرمایا کہ مجھے ایک دوست نے جن کو میرا یہ ارادہ معلوم ہو گیا تھا اور جو اب بھی زندہ ہیں کہلا بھیجا کہ یہ گھوڑی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تحفہ ہے اسے آپ بالکل فروخت نہ کریں۔اس وقت میری عمر انیس سال کی تھی۔وہ جگہ جہاں یہ بات کہی گئی تھی اب تک یاد ہے۔میں اس وقت ڈھاب کے کنارے تشھید الا ذبان کے دفتر سے جنوب مشرق کی طرف کھڑا تھا۔جب مجھے یہ کہا گیا کہ یہ گھوڑی حضرت مسیح موعود کا تحفہ ہے اس لئے اسے فروخت نہ کرنا چاہئے تو بغیر سوچے سمجھے معا میرے منہ سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے کہ بیشک یہ تحفہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے مگر اس سے بھی بڑا تحفہ ام المومنین ہیں۔میں گھوڑی کی خاطر حضرت اُم المومنین کو تکلیف دینا نہیں چاہتا۔چنانچہ میں نے گھوڑی فروخت کر دی۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 29 صفحہ 32-31) اس سے جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مجاہدانہ رجحان کا بھی پتا چلتا ہے کہ آپ نے گھوڑے کی سواری کو پسند کیا، باقی چیزوں پر ترجیح دی اور حضرت مصلح موعود کے حضرت ام المومنین کے لئے جو جذبات اور احساسات تھے ان کا بھی پتا لگتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود کی وفات اور اپنی حالت کا ذکر کرتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے تو یہ سمجھا گیا کہ آپ اچانک فوت ہو گئے ہیں۔لیکن مجھے پہلے سے اس کے متعلق کچھ ایسی باتیں معلوم ہو گئی تھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی بڑا انقلاب آنے والا ہے۔مثلاً میں نے رویا میں دیکھا کہ میں بہشتی مقبرہ سے ایک کشتی پر آ رہا ہوں۔رستے میں پانی اس زور شور کا تھا کہ سخت بھنور پڑنے لگا اور کشتی خطرے میں پڑ گئی جس سے سب لوگ جو کشتی میں بیٹھے تھے ڈرنے لگے۔جب ان کی یہ حالت مایوسی تک پہنچ گئی تو پانی میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک تحریر تھی جس میں لکھا تھا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے ان سے درخواست کرو تو کشتی نکل جائے گی۔میں نے کہا یہ تو شرک ہے خواہ ہماری جان چلی جائے ہم اس طرح نہیں کریں گے۔اتنے میں خطرہ اور بھی بڑھ گیا اور ساتھ والوں میں سے بعض نے کہا کہ کیا حرج ہے ایسا کر دیا جائے۔اور انہوں نے پیر صاحب کو چھٹی لکھ کر بغیر میرے علم کے پانی میں ڈال دی۔( خواب میں یہ نظارہ نظر آ رہا ہے۔) جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اس چھٹی کو کود کر نکال لیا۔فوراً پانی میں چھلانگ لگائی اور اس خط کو نکال لیا) اور جو نبی میں نے ایسا کیا وہ کشتی چلنے لگ گئی اور کوئی خطرہ نہیں رہا۔سب خطرہ جاتا رہا۔فرماتے ہیں کہ جب حضرت صاحب فوت ہوئے اس وقت خدا تعالیٰ نے میرا دل نہایت مضبوط کر دیا اور فوراً میرا ذہن اس طرف منتقل ہوا کہ اب ہم پر بہت