خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 323 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 323

خطبات مسرور جلد 13 323 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء انتظام سنبھالنے کے لئے مینجر کی ضرورت ہے۔میں نے کہا میں تنخواہ کہاں سے دوں گا؟ میرے پاس تو نہ کوئی رقم ہے جس سے تنخواہ دے سکوں اور نہ جائداد سے اتنی آمد کی توقع ہے۔انہوں نے کہا آپ جو چھوٹی سے چھوٹی تنخواہ دینا چاہتے ہیں وہ دے دیں۔اور پھر انہوں نے خود ہی کہہ دیا کہ آپ مجھے دس روپیہ ماہوار ہی دے دیں۔چنانچہ میں نے انہیں ملازم رکھ لیا اور یہ خیال کیا کہ چلو اس قدر تو آمد ہو ہی جائے گی۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ جوں جوں شہر ترقی کرتا گیا اس جائداد کی قیمت بھی بڑھتی چلی گئی۔جب قرآن کریم کے پہلے ترجمے کے چھپوانے کا سوال پیدا ہوا۔( کچھ لوگ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ پیسہ کہاں خرچ کیا یا کہاں سے آیا تو اس کا جواب بھی اس میں آ گیا۔) فرماتے ہیں کہ جب قرآن کریم کے پہلے ترجمے کے چھپوانے کا سوال پیدا ہوا تو میں نے چاہا کہ اس ترجمے کی اشاعت کا سارا خرچ ہمارا خاندان ہی برداشت کرے۔(یعنی آپ اور آپ کے بھائی بہن۔) میں نے اس وقت شیخ نوراحمد صاحب کو بلوایا اور ان سے کہا کہ اس وقت مجھے دو ہزار روپے کی ضرورت ہے۔کیا اس قدر روپیہ مہیا ہوسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ زمین کا کچھ حصہ مکانات کے لئے فروخت کرنے کی اجازت دے دیں تو پھر جتنا چاہیں روپیہ آ جائے گا۔چنانچہ میں نے کچھ زمین فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔یر زمین پچاس کنال کے قریب تھی اور اس جگہ واقع تھی جہاں بعد میں محلہ دار الفضل آباد ہوا۔تھوڑی دیر کے بعد شیخ صاحب آئے اور ان کے ہاتھ میں روپوں کی تھیلی تھی۔انہوں نے کہا یہ دو ہزار روپیہ ہے اور اگر آپ کو دس ہزار کی بھی ضرورت ہو تو وہ بھی مل سکتا ہے۔میں نے کہا مجھے اس وقت اتنے ہی روپے کی ضرورت تھی ( کیونکہ قرآن کریم کی اشاعت کے لئے روپیہ چاہئے تھا) زیادہ کی ضرورت نہیں۔چنانچہ قادیان کا جو محلہ دارالفضل ہے اس کے بارے میں آپ فرما رہے ہیں کہ اس طرح اس محلے کی بنیاد پڑی اور وہ رو پیدا اشاعت قرآن میں دے دیا گیا۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 3 صفحہ 682-681) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قادیان سے محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو محبت تھی اور کس طرح آپ دیکھا کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ جن مقاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا تعلق ہوتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے متبرک بنا دیئے جاتے ہیں۔قادیان بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے۔یہاں خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ مبعوث ہوا اور اس نے یہاں ہی اپنی ساری عمر گزاری اور اس جگہ سے وہ محبت رکھتا تھا۔چنانچہ اس موقع پر جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور گئے ہوئے تھے۔( جب حضرت مسیح موعود آخری بیماری کے دنوں میں یا آخری دنوں میں لاہور گئے