خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 322
خطبات مسرور جلد 13 322 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء احمدیہ کے پاس اتنا روپیہ نہیں کہ وہ تمہیں زیادہ گزارہ دے سکے۔آخر اس کے پاس جو روپیہ آ تا ہے وہ جماعت کے چندوں سے ہی آتا ہے اور وہ اس قدر زیادہ نہیں ہوتا۔(ماخوذاز الفضل 18 فروری 1956 ءصفحہ 5 جلد 10/45 نمبر 42) کارکنان کو خدا کا شکر اور توکل کی نصیحت ان ملکوں میں جیسا کہ میں نے کہا مہنگائی زیادہ ہے بعض دفعہ بعض لوگوں کے ایسے حالات ہوتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا گزارہ نہیں ہوتا اور بعض مجھے خطوں میں لکھتے بھی ہیں۔مجھے علم ہے جیسا کہ میں نے کہا کہ پاکستان ہندوستان وغیرہ میں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور کارکنوں کے جو الاؤنس ہیں ان سے گزارے مشکل سے ہوتے ہیں۔لیکن جو زیادہ سے زیادہ گنجائش کے مطابق سہولت دی جا سکتی ہے وہ دی جاتی ہے۔ایسے لوگوں کو ان لوگوں کی طرف بھی دیکھنا چاہئے جو انتہائی غربت میں گرفتار ہیں۔بیماری کی صورت میں بچوں کے اور اپنے علاج کی بھی توفیق نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہئے اور اس پر توکل کرنے کی زیادہ ضرورت ہے اور اس کی طرف اپنی ضروریات کے لئے جھکنے کی ضرورت ہے بجائے اس کے کہ اِدھر اُدھر دیکھا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے ذکر میں ایک پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ سینکڑوں پیشگوئیاں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد میں پوری ہو ئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا بین ثبوت بنیں۔مثلاً میرے متعلق ہی آپ کی یہ پیشگوئی تھی کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔اب آپ لوگ دیکھ لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی زندگی میں آپ کی کس قدر جائداد تھی۔آپ نے مخالفین کو انعامی چیلنج کرتے ہوئے لکھا کہ میں اپنی جائداد جو دس ہزار روپیہ مالیت کی ہے پیش کرتا ہوں۔گویا اس وقت آپ کی جائداد صرف دس ہزار روپیہ کی تھی لیکن اب وہ لاکھوں روپے کی ہو چکی ہے۔یہ دولت کہاں سے آئی ہے؟ یہ سب خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ورنہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جب نانا جان ( حضرت میر ناصر نواب صاحب) نے ہماری زمینوں سے تعلق رکھنے والے کاغذات واپس کئے۔(پہلے حضرت مسیح موعود کے زمانے میں ان کے سپرد انتظام تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد حضرت مصلح موعود کو کاغذ واپس کر دیئے۔) تو میں اپنے آپ کو اتنا بے بس محسوس کرتا کہ میں حیران تھا کہ کیا کروں۔اتفاق سے شیخ نور احمد صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کو ایک ملازم کی ضرورت ہے۔آپ مجھے رکھ لیں۔( زمین کا