خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 321 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 321

خطبات مسرور جلد 13 321 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت کا اندازہ لگایا ہے جو آپ کی صحبت میں رہے۔میں نے سالہا سال ان کے متعلق دیکھا ہے کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جدائی کی وجہ سے اپنی زندگی میں کوئی لطف محسوس نہ ہوتا تھا اور ( حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد ) دنیا میں کوئی رونق نظر نہ آتی تھی۔فرمایا کہ حضرت خلیفہ اول جن کے حوصلے کے متعلق جو لوگ واقف ہیں جانتے ہیں کہ کتنا مضبوط اور قوی تھا۔وہ اپنے غموں اور فکروں کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے مگر انہوں نے کئی دفعہ جبکہ آپ اکیلے ہوتے اور کوئی پاس نہ ہوتا مجھے کہا میاں! جب سے حضرت صاحب فوت ہوئے ہیں مجھے اپنا جسم خالی معلوم ہوتا ہے اور دنیا خالی خالی نظر آتی ہے۔میں لوگوں میں چلتا پھرتا اور کام کرتا ہوں مگر پھر بھی یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز باقی نہیں رہی۔آپ کے علاوہ کئی اور لوگوں کو بھی میں نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت میں رہے۔ان کی محبت اور عشق ایسا بڑھا ہوا تھا کہ کوئی چیز انہیں لطف نہ دیتی اور وہ چاہتے کہ کاش ہماری جان نکل جائے تو ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جاملیں۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 1 صفحہ 145-144) - پھر ایک جگہ جماعتی کارکن جو ہیں خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں مہنگائی بھی بہت ہے اور غربت بھی بہت ہے، ان کو نصیحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا خدا سے مانگیں بجائے اس کے کہ انجمن پر کسی کی نظر ہو۔اور اس حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک چھوٹی سی بات کی مثال حضرت مصلح موعود نے دی۔فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی بہت سردی محسوس ہوتی تھی اس لئے آپ مشک کھایا کرتے تھے۔( یہ دیسی حکیموں کا نسخہ ہے۔مشک کھانے سے سردی دور ہوتی ہے) شیشی بھر کے جیب میں رکھ لیا کرتے تھے اور ضرورت کے وقت استعمال کر لیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ایک شیشی (چھوٹی سی شیشی جیب میں آ جاتی ہے )۔دو دو سال تک چلتی ہے۔لیکن جب خیال آتا ہے کہ مشک تھوڑی رہ گئی ہے اور شیشی دیکھتا ہوں تو وہ ختم ہو جاتی ہے۔( جب تک دیکھا نہیں جاتا ، کھاتے رہتے ہیں اور اس میں برکت پڑتی رہتی ہے۔فرمایا کہ جب میں دیکھتا ہوں تو کچھ عرصہ بعد ختم ہو جاتی ہے۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب سے رزق بھیجتا ہے اور اس کے رزق بھیجنے کے طریقے نرالے ہیں۔پس تم اس ذات سے مانگو جس کا خزانہ خالی نہیں ہوتا۔انجمن سے کیوں مانگتے ہو جس کے پاس اتنی رقم ہی نہیں کہ وہ تمہارے گزارے بڑھا سکے۔پس تم خدا پرست بن جاؤ۔( خدا تعالیٰ کی عبادت کرو۔) خدا تعالیٰ غیب سے تمہیں رزق بھیج دے گا۔(اُس سے مانگو۔) صدر انجمن