خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 320
خطبات مسرور جلد 13 کرنے والوں کو نصیب ہوئی۔320 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 9 صفحہ 341) بیشک قربانیاں بڑھ گئیں لیکن اس زمانے کا ایک اپنا مقام تھا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے قرآن پر ایک چھوٹا سا نوٹ تحریر کیا جو ان قلبی کیفیات کو خوب ظاہر کرتا ہے جو نبی کے زمانے دیکھنے والوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔میں نے سلام پر نوٹ لکھا ہے۔یعنی اس رات میں سلامتی ہی سلامتی ہے۔سورۃ القدر کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آہ مسیح موعود کا وقت۔اس وقت تھوڑے تھے۔( یہ نوٹ لکھا ہوا تھا ) آہ! مسیح موعود کا وقت۔اس وقت تھوڑے تھے مگر امن تھا۔بعد میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی ترقیات دی ہیں مگر یہ ترقیات اس زمانے کا کہاں مقابلہ کر سکتی ہیں جو مسیح موعود کا زمانہ تھا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 9 صفحه 340) بیشک آج دنیوی لحاظ سے لوگ ہماری بات زیادہ سنتے ہیں۔زیادہ لوگوں تک ہماری پہنچ ہے۔بڑے بڑے سیاستدانوں تک اور حکومتوں تک کو بھی ہم بات سنا دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے لحاظ سے مالی طور پر بھی جماعت زیادہ مضبوط ہے۔آج ایک ایک آدمی جتنا چندہ دیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں سال بلکہ دو سال میں بھی اتنا چندہ نہیں آتا تھا مگر اس کے باوجود یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ زمانہ اس زمانے سے بہتر ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں کے وارث بن سکتے ہیں۔گو وہ زمانہ تو نہیں دیکھ سکتے۔اگر ہمارے اندر یہ جذبہ اور جوش پیدا ہو جائے کہ ہم نے آپ کے مشن کی تکمیل میں اسی طرح اخلاص اور وفا سے کام کرنا ہے۔جو آپ روح پھونکنا چاہتے تھے اور اس روحانیت میں ترقی کرنے کی کوشش کرنی ہے جو آپ نے اپنے صحابہ میں پیدا کی۔حضرت مصلح موعود کے بعض اور حوالے بھی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں اور آپ کے زمانے سے ہی متعلق ہیں وہ پیش کرتا ہوں۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کا جوعشق تھا اس کا نقشہ کھینچتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا۔آپ کے دیکھنے والوں کو آپ سے جو محبت تھی اس کا اندازہ وہ لوگ نہیں کر سکتے جو بعد میں آئے یا جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں عمر چھوٹی تھی۔( آپ کے زمانہ میں تھے لیکن عمر چھوٹی تھی ،اتنا شعور نہیں تھا۔فرمایا مگر مجھے خدا تعالیٰ نے ایسا دل دیا تھا کہ میں بچپن سے ہی ان باتوں کی طرف متوجہ تھا۔میں نے ان لوگوں کی