خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 319 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 319

خطبات مسر در جلد 13 319 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مئی 2015 ء کوئی مٹا نہیں سکتا۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں احمدیت پہنچی ہوئی ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جب لنگر خانے کا خرچہ بڑھا اور کثرت سے قادیان میں مہمان آنے شروع ہو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خاص طور پر یہ فکر پیدا ہو گیا کہ اب ان اخراجات کے پورا ہونے کی کیا صورت ہوگی۔مگر اب یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک ایک احمدی لنگر خانے کا سارا خرچ دے سکتا ہے۔(اب یہ حضرت مصلح موعود کے زمانے کی بات ہے اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے مزید وسعت پیدا ہو چکی ہے۔) فرماتے ہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے زلزلے کے متعلق اپنی پیشگوئیوں کی اشاعت فرمائی تو قادیان میں کثرت سے احمدی دوست آگئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی دوستوں سمیت باغ میں تشریف لے گئے اور وہاں خیموں میں رہائش شروع کر دی۔چونکہ ان دنوں قادیان میں زیادہ کثرت سے مہمان آنے لگ گئے تھے۔ایک دن آپ نے ہماری والدہ سے فرمایا کہ اب تو روپے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔(بہت زیادہ اخراجات شروع ہو گئے ہیں۔) میرا خیال ہے کہ کسی سے قرض لے لیا جائے۔( یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔کیونکہ اب اخراجات کے لئے کوئی روپیہ پاس نہیں رہا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ ظہر کی نماز کے لئے تشریف لے گئے۔جب واپس آئے تو اس وقت مسکرا رہے تھے۔واپس آنے کے بعد پہلے آپ کمرے میں تشریف لے گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد باہر نکلے اور والدہ سے فرمایا کہ انسان با وجود خدا تعالیٰ کے متواتر نشانات دیکھنے کے بعض دفعہ بدظنی سے کام لیتا ہے۔میں نے خیال کیا تھا کہ لنگر کے لئے روپیہ نہیں۔اب کہیں سے قرض لینا پڑے گا مگر جب میں نماز کے لئے گیا تو ایک شخص جس نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے وہ آگے بڑھا اور اس نے ایک پوٹلی میرے ہاتھ میں دے دی۔میں نے اس کی حالت دیکھ کر سمجھا کہ اس میں کچھ پیسے ہوں گے۔( بھاری تھی اس لئے coins کی وجہ سے سکوں کی وجہ سے اس میں وزن آ گیا اور چند پیسے ہوں گے ) مگر جب گھر آ کر اسے کھولا تو اس میں سے کئی سو روپیہ نکل آیا۔اب دیکھو وہ روپیہ آج کل کے چندوں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا تھا۔آج اگر کسی کو کہا جائے کہ تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے کا ایک دن نصیب کیا جاتا ہے بشرطیکہ تم لنگر کا ایک دن کا خرچ دے دو تو وہ کہے گا ایک دن کا خرچ نہیں تم مجھ سے سارے سال کا خرچ لے لو لیکن خدا کے لئے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا ایک دن دیکھنے دو۔مگر آج کسی کو وہ بات کہاں نصیب ہو سکتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں قربانی