خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 311 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 311

خطبات مسرور جلد 13 311 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء پس یہ چند اقتباسات ہیں جو میں نے ان بے شمار اقتباسات میں سے لئے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور مقام کے بارے میں تحریر فرمائے ہیں۔اسی طرح اسلام کی مختلف تعلیمات کی وضاحت کے بارے میں بھی ایک خزانہ ہے جو آپ نے پیش فرمایا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے زیادہ سے زیادہ فیض اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور اسلام کے نام نہاد علمبرداروں کو بھی عقل دے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی - عاشق صادق کی باتوں کو سنیں اور یہ عامۃ المسلمین کی صحیح رہنمائی کرنے والے بنیں۔نماز کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا ہے مکرم محمد موسیٰ صاحب درویش قادیان کا جو 10 رمئی 2015ء کو پچانوے سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مرحوم آخری عمر تک چلتے پھرتے رہے۔وفات سے چار روز قبل احمد یہ چوک میں ایک سڑک پر حادثے میں گرنے کی وجہ سے کنپٹی پر چوٹ لگی جس کی وجہ سے چار روز امرتسر ہسپتال میں داخل رہے اور اس کے بعد نور ہسپتال میں وفات ہو گئی۔مرحوم موصی تھے۔آپ کے خاندان کو خلافت اولی کے زمانے میں بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔مرحوم ضلع شیخو پورہ کے گاؤں سید والا کے رہنے والے تھے۔1946ء میں جب آپ نے فوج کی ملازمت چھوڑ کر قادیان میں رہائش اختیار کی تو حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ کیا کام کر رہے ہیں تو مرحوم نے بتایا کہ فوج کی سروس چھوڑ کر ذاتی کام شروع کرنے لگا ہوں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ مجھے آپ کی خدمت کی ضرورت ہے ہجرت کر کے آپ نے پاکستان میں نہیں جانا۔قادیان میں ہی قیام رکھیں۔یہ 47ء کی بات ہے اور اس وقت حالات پارٹیشن کے بھی ہو رہے تھے۔چنانچہ آپ قادیان میں ہی ٹھہرے اور اس طرح آپ 313 درویشان قادیان میں شامل ہو گئے اور بڑی سعادتمندی سے درویشی کے دن گزارے۔آپ کو سالہا سال صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر میں بالخصوص دارا مسیح میں خدمت کی توفیق ملی۔مرحوم کو 2006 ء میں جلسہ سالانہ برطانیہ میں درویشوں کے نمائندے کے طور پر شرکت کی توفیق ملی اور عالمی بیعت میں بھی آپ کو ہندوستان کے نمائندہ ہونے کی توفیق ملی اور آپ سب سے آگے بیٹھے ہوئے تھے۔پسماندگان میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔آپ کے بیٹے مکرم لطیف صاحب سلسلہ کی خدمت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔آپ کی اہلیہ کی وفات 30 مئی 2014ء کو ہوئی تھی۔انہوں نے اپنے درویش شوہر کا ساتھ دیتے ہوئے بڑی درویشانہ زندگی بڑے صبر کے ساتھ بسر کی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولا دکو بھی توفیق عطا فرمائے کہ ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے رہیں۔