خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 309
خطبات مسرور جلد 13 309 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء آبروؤں اور اپنے اموال اور اولاد پر اللہ تعالیٰ کو مقدم کیا۔رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ۔(البلاغ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 433-434 - ترجمه عربی عبارت از کتاب محامد خاتم النبیین سرور انبیاء حبیب خداصلی الہ علیہ وسلم سمی به در یتیم از تحریرات از مرزا غلام احمد قادیانی شائع کردہ 31 جنوری 1936 صفہ نمبر 302) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ختم نبوت کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ”ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین تمام ادیان سے بہتر ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔آپ کے بعد وہی نبی آ سکتا ہے جس کی تربیت آپ کے فیضان سے ہوئی ہو اور آپ کی پیشگوئی کے ماتحت آیا ہو اور کوئی نبی نہیں آسکتا۔اور ختم نبوت سے مراد نبوت کے کمالات کا ہمارے نبی افضل الرسل والانبیاء پر ختم ہونا ہے۔اور ہم اعتقادر کھتے ہیں کہ آپ کے بعد وہی نبی آ سکتا ہے جو آپ کی امت میں سے اور آپ کے کامل تر پیروؤں میں سے ہو جس نے تمام کا تمام فیضان آپ ہی کی روحانیت سے پایا ہو اور آپ ہی کے نور سے منور ہو ا ہو۔اور کوئی نبی نہیں آسکتا۔اور یہی بات حق ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات پر گواہ ہے اور لوگوں کو آپ کا حسن آپ کے سچے پیروؤں کے لباس میں جو کامل محبت اور اخلاص کے ساتھ آپ میں فنا ہوں دکھلاتی ہے اور اس کے خلاف بحث کرنا جہالت ہے بلکہ یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتر نہ ہونے کا ثبوت ہے اور اہل تدبر کے لئے اس کی تفصیل کی کچھ ضرورت نہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی لحاظ سے تو کسی مرد کے باپ نہیں تھے لیکن آپ روحانیت کے رو سے کمال یا فت شخص پر اپنی فیضان رسالت کے لحاظ سے باپ ہیں اور آپ تمام انبیاء کے خاتم اور تمام مقبولوں کے سردار ہیں اور سوائے اس شخص کے جس کے پاس آپ کی مہر کا نقش ہو اور آپ کی سنت کا پیرو ہوکوئی شخص خدا تعالیٰ کی درگاہ میں کبھی رسائی نہیں پاسکتا اور کوئی عمل اور کوئی عبادت آپ کی رسالت کے اقرار اور آپ کے دین اور آپ کی ملت پر پختگی کے ساتھ قائم ہوئے بغیر قبول نہیں ہو سکتی۔اور جس نے آپ کو چھوڑا اور اپنی طاقت اور مقدور بھر آپ کی تمام سنن کی پیروی نہ کی وہ ہلاک ہوا اور آپ کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آسکتی اور کوئی چیز آپ کی کتاب اور آپ کے احکام کو منسوخ کرنے والی یا آپ کی پاک باتوں کو تبدیل کر دینے والی نہیں ہوسکتی اور کوئی بارش آپ کی بارش جیسی نہیں ہوسکتی۔اور جو شخص قرآن کی پیروی سے ایک ذرہ بھر باہر نکلا وہ دائرہ ایمان سے نکل گیا۔اور کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا اور نجات نہیں پاسکتا جب تک وہ ان تمام باتوں کی