خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 307 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 307

خطبات مسرور جلد 13 307 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء مشروط کیا ہے کہ ایسا شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے‘ اللہ تعالیٰ نے کسی کے ساتھ اپنا پیار کرنا اس بات سے مشروط کیا ہے کہ ایسا شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے۔یعنی شرط یہ لگائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرو گے تو میرا پیار حاصل ہوگا ) چنانچہ فرماتے ہیں کہ ” میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کار انسان کو خدا کا پیارا بنا دیتا ہے۔اس طرح پر کہ خود اس کے دل میں محبت الہی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے۔تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہے اور اس کا اُنس وشوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے تب محبت الہی کی ایک خاص تجلی اس پر پڑتی ہے اور اس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دے کر قومی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔تب جذبات نفسانیہ پر وہ غالب آ جاتا ہے اور اس کی تائید اور نصرت میں ہر ایک پہلو سے خدا تعالیٰ کے خارق عادت افعال نشانوں کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 67 تا 68 ) پھر یہ بیان فرماتے ہوئے کہ سب سے کامل انسان اور کامل نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔ہی ہیں فرماتے ہیں کہ : وہ انسان جس نے اپنی ذات سے، اپنی صفات سے، اپنے افعال سے، اپنے اعمال سے اور اپنے روحانی اور پاک قومی کے پر زور دریا سے کمال تام کانمونہ علما وعملاً وصدقا وثبائنا دکھلا یا اور انسان کامل کہلایا ، وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسان کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا، وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفیاء ختم المرسلین فخر النبیین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملا کی اور بیٹی اور ذکر یا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگر چہ سب مقرب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔یہ اس نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔اللَّهُمَّ صَلِ وَسَلّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَالِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ “ اتمام الحجة ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308)