خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 304
خطبات مسرور جلد 13 304 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء بعض میں یہ دونوں حالتیں مخفی ہوتی ہیں اور بعض میں کامل درجہ پر ظهور و بروز پکڑتی ہیں (انتہائی طور پر ظاہری ہو جاتی ہیں اور فرمایا کہ ) اور اس بارے میں سب سے اول قدم حضرت خاتم الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمال وضاحت سے یہ دونوں حالتیں وارد ہو گئیں ( یعنی تنگی کے حالات بھی ہوئے اور فتح اور نصرت کے حالات بھی ہوئے ) اور ایسی ترتیب سے آئیں کہ جس سے تمام اخلاق فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثل آفتاب کے روشن ہو گئے اور مضمون إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:5) کا بہ پا یہ ثابت پہنچ گیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا دونوں طور پر علی وجہ الکمال ثابت ہونا تمام انبیاء کے اخلاق کو ثابت کرتا ہے ( آپ کے اخلاق کا کمال تک پہنچنا صرف آپ کے اخلاق کو نہیں بلکہ تمام انبیاء کے اخلاق کو ثابت کرتا ہے۔کس طرح؟ فرمایا ) کیونکہ آنجناب نے ان کی نبوت اور ان کی کتابوں کو تصدیق کیا ( ان کی تصدیق کی ) اور ان کا مقرب اللہ ہونا ظاہر کر دیا ہے۔پس اس تحقیق سے یہ اعتراض بھی بالکل دور ہو گیا کہ جو مسیح کے اخلاق کی نسبت دلوں میں گزرسکتا ہے یعنی یہ کہ اخلاق حضرت مسیح علیہ السلام دونوں قسم مذکورہ بالا پر علی وجہ الکمال ثابت نہیں ہو سکتے بلکہ ایک قسم کے رُو سے بھی ثابت نہیں ہیں۔کیونکہ مسیح نے جو زمانہ مصیبتوں میں صبر کیا تو کمالیت اور صحت اس صبر کی تب به پایه صداقت پہنچ سکتی تھی کہ جب صحیح اپنے تکلیف دہندوں پر اقتدار اور غلبہ پا کر اپنے موذیوں کے گناہ دلی صفائی سے بخش دیتا ( جنہوں نے آپ کو تکلیفیں پہنچائی تھیں ان کے گناہ دلی صفائی سے بخش دیتا ) جیسا حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں اور دوسرے لوگوں پر بکلی فتح پاکر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر ان کا گناہ بخش دیا۔اور صرف انہیں چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیت کی طرف سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے قطعی حکم وارد ہو چکا تھا۔اور بجز ان از لی ملعونوں کے ہر یک دشمن کا گناہ بخش دیا اور فتح پا کر سب کو لا تخریب عَلَيْكُمُ الْيَوْم کہا۔اور اسے عفو تقصیر کی وجہ سے کہ جو مخالفوں کی نظر میں ایک امر محال ہوتا تھا اور اپنی شرارتوں پر نظر کرنے سے وہ اپنے تئیں اپنے مخالف کے ہاتھ میں دیکھ کر مقتول خیال کرتے تھے۔“ (یعنی ایسا عفود کھایا جو مخالفوں کو اپنے گناہوں کی وجہ سے، اپنی غلطیوں کی وجہ سے لگتا تھا کہ بڑا مشکل ہے ہمیں معاف نہیں کیا جائے گا۔جب وہ اپنی شرارتوں کو دیکھتے تھے تو سمجھتے تھے کہ اب ہماری سزا صرف یہی ہے کہ ہمیں قتل کیا جائے گا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف کر دیا۔فرماتے ہیں کہ ) ” ہزاروں انسانوں نے ایک ساعت میں دین اسلام قبول کر لیا ( اسی وجہ سے ) اور حقانی صبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ جو ایک زمانہ دراز تک آنجناب نے ان