خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 300 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 300

خطبات مسرور جلد 13 300 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مئی 2015 ء سامنے آئی ہے۔اپنے زعم میں ہمارے خلاف جو یہ قدم اٹھایا گیا ہے یہ تو ایک معمولی سی روک ہے۔ہمیں تو جتنا دبایا جائے اتنا ہی اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کو بڑھاتا ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ اب بھی بہتر ہوگا۔اس لئے کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔اس لئے زیادہ فکر اور پریشانی کی ضرورت نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب اب تو دنیا کے اور ممالک میں بھی چھپ رہی ہیں۔ویب سائٹ پر بھی میسر ہیں۔آڈیو میں بھی بعض کتب میسر ہیں اور باقی بھی انشاء اللہ تعالیٰ جلدی مہیا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ایک زمانہ تھا جب یہ فکر تھی کہ اشاعت پر پابندی سے نقصان ہو سکتا ہے۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ علم و معرفت کے جو خزانے ہیں یہ فضاؤں میں پھیلے ہوئے ہیں جو ایک بٹن دبانے سے ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام اور کتب سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ایم ٹی اے پر بھی میں نے اب سوچا ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا درس پہلے سے زیادہ وقت بڑھا کر دیا جائے گا اور اس طرح پاکستان کے ایک صوبے کے قانون کی وجہ سے دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا فائدہ ہو جائے گا۔ہر جو روک ہوتی ہے، مخالفت ہوتی ہے ہمیں فائدہ پہنچاتی ہے۔نئے راستوں اور ذرائع کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔اور پھر یہ بھی ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ کہ اس سے نہ صرف اصل زبان میں کتابیں چھپیں گی یا درس ہوں گے بلکہ بہت ساری قوموں کی مقامی زبانوں میں بھی یہ مواد میسر آ جائے گا۔پس جن کے دلوں میں کسی بھی قسم کی پریشانی ہے کیونکہ لوگ لکھتے ہیں اس لئے مجھے کہنا پڑ رہا ہے وہ اپنے دلوں سے نکال دیں۔ہمارے لٹریچر کے خلاف یہ جو ساری کارروائی کی گئی ہے اس سے ایک بات بہر حال واضح ہے اور یہ بڑی ابھر کر سامنے آ گئی ہے، پہلے بھی ہمیشہ آتی ہے کہ یہ لوگ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بہت بڑھے ہوئے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے یہ بہت بڑے علمبر دار ہیں اور اس وجہ سے یہ ہماری مخالفت کرتے ہیں انہوں نے انصاف کی نظر سے نہ کبھی جماعت کے لٹریچر کو پڑھا ہے، نہ پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ویسے تو عموماً ہماری طرف سے ان کے دعوے کی حقیقت اور ان کا اصل چہرہ ان کو دکھایا جاتا رہتا ہے لیکن میں نے سوچا ہے کہ آج بھی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کے حوالے سے جن میں ہمارے مخالفین کے خیال میں نعوذ باللہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے خلاف باتیں کی گئی ہیں، شان کے خلاف باتیں کی گئی ہیں، تعلیمات کے خلاف باتیں کی گئی ہیں، یا ان میں نفرت اور دل آزاری کا مواد ہے۔یہ سارے مضامین تو بڑے وسیع ہیں اس میں سے