خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 296
خطبات مسرور جلد 13 296 لئے میں نے باوجود نہ چاہتے ہوئے اس کھٹے سیب کو کھا لیا۔خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015 ء (ماخوذ از تقدیر الہی ، انوار العلوم جلد 4 صفحہ 579) تو بہر حال اصل چیز ی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دعا سے اس کا علاج ہو چکا ہے اب کوئی چیز اثر نہیں کرے گی اور اس نے نہیں کیا۔یہ میں آپ کو اس لئے بتا رہا ہوں کہ ایک خط تو مجھے آچکا ہے اور لوگ کہیں اور واقعہ پڑھیں تو مزید بھی شاید آ جائیں۔یہ واقعہ گزشتہ ہفتے بھی میرے پاس تھا لیکن میں نے پڑھا نہیں تھا۔تو بہر حال کیلا اور سیب دونوں کا ذکر آتا ہے اور دونوں میں نے بیان کر دیئے۔اب نماز جمعہ کے بعد ایک نماز جنازہ غائب بھی میں پڑھاؤں گا جو ہمارے ایک درویش حاجی منظور احمد صاحب کا ہے۔ان کی یکم مئی کو 85 سال کی عمر میں قادیان میں وفات ہوئی۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ چانگریاں ضلع سیالکوٹ میں 1929 میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد حضرت نظام الدین صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور والدہ بھی آپ کی صحابی تھیں۔ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے بھائیوں کے ساتھ آپ نے فرنیچر بنانے کا کام سیکھا۔1947ء میں جب تحریک ہوئی کہ حالات کی سنگینی کی وجہ سے قادیان میں خدام کو بلایا گیا ہے تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریک پر آپ حفاظت مرکز کے لئے پچیس میل سے زائد پیدل سفر کر کے گہرے پانیوں میں سے گزر کر رتن باغ لاہور میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے پاس پہنچے۔وہاں سے بڑے مشکل حالات میں ستمبر یا اکتوبر 1947ء کو قادیان پہنچے۔ابتدائی درویشان میں شامل ہو کر مخالف حالات میں بڑی بہادری اور جانفشانی سے خدمت کی۔ابتدائی دنوں میں جبکہ بارشوں کی وجہ سے بعض چھتیں اور دیوار میں گر گئیں تو آپ کو کیونکہ یہ ہنر آتا تھا آپ ان کی مرمت کر کے ٹھیک کیا کرتے تھے۔اس طرح آپ کو بعض اہم خدمات بھی سپرد کی جاتی رہیں۔جو کام بھی آپ کے سپر د ہوا آپ نے انتہائی خوش اسلوبی اور محنت کے ساتھ انجام دیا جس میں بہشتی مقبرہ کی دیوار بنانا ، لائبریریوں کی کتب کی حفاظت کا سامان کرنا وغیرہ شامل تھا۔قادیان کے ماحول کو ساز گار کرنے میں آپ نے غیر مسلموں سے رابطے کئے اور اپنے حسن سلوک سے ان کو اپنا گرویدہ کر لیا۔آپ ایک نہایت اچھے کاریگر تھے۔صدر انجمن احمدیہ کی تعمیرات کے لئے راج مستری کے علاوہ لکڑی کا ہر قسم کا کام کر لیا کرتے تھے۔ضرورت کے مطابق اپنی ذہنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے کام کے لئے اچھا ڈھنگ نکال