خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 289

خطبات مسرور جلد 13 289 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء کہ احمدیت جو حقیقی اسلام پیش کرتی ہے وہ کیا ہے، یہاں سے قادیان گئے اور اس کے بعد انہوں نے اپنے تأثرات لکھے اور وہ تاثرات ایسے ہیں کہ آدمی حیران ہوتا ہے کس طرح غیر بھی بعض باریکیوں میں جا کر نکات نکالتے ہیں۔بہر حال ان کا جو مضمون ہے وہ شائع ہو جائے گا۔پھر ایک موقع پر حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ یہ نظارہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کی ترقی کے متعلق دیکھا اس کے متعلق یہ ضروری نہیں کہ قادیان کی ترقی کا سارا نظارہ آپ کو دکھا دیا گیا ہو۔ہاں یہ ضروری ہے کہ اس سے کم قادیان کی ترقی نہ ہو۔اگر زیادہ ہو جائے تو وہ اس پیشگوئی میں کوئی حارج نہیں ہوگی بلکہ اس کی شان اور عظمت کو بڑھانے والی ہوگی۔پس یہ خواب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا اس کے یہ معنی نہیں کہ اس سے آگے قادیان نہیں بڑھے گا۔ممکن ہے کہ کسی وقت قادیان اتنا ترقی کر جائے کہ دریائے بیاس قادیان کے اندر بہنے والا ایک نالہ بن جائے اور قادیان کی آبادی دریائے بیاس سے آگے ہوشیار پور کے ضلع کی طرف نکل جائے۔“ ( خطبات محمود جلد 28 صفحہ 35 الفضل 11 فروری 1947 ء صفحہ 2) قادیان میں اب جہاں جماعتی عمارات میں اضافہ ہو رہا ہے ، دفاتر کے علاوہ کارکنان کے رہائشی کوارٹرز اور فلیٹس بھی بن رہے ہیں۔دوسری عمارتیں بن رہی ہیں۔وہاں قادیان کے اپنے رہائشیوں کو بھی اللہ تعالیٰ ان کے حالات بہتر کر کے توفیق دے رہا ہے کہ وہ اپنے بڑے اور وسیع گھر بنا ئیں۔اس کے علاوہ ہندوستان کے صاحب حیثیت احمدی بھی اپنی عمارتیں اور گھر بنا رہے ہیں۔پھر دنیا میں بسنے والے احمدیوں کی بھی اس طرف توجہ ہے۔لیکن بنیادی چیز وہی ہے جسے ہر احمدی کو سامنے رکھنا چاہئے کہ سب ترقیوں کا راز یا ترقی کا حصہ بننے کا راز خدا تعالیٰ کے گھروں کو آباد کرنے اور اس سے تعلق جوڑنے سے ہے۔جہاں کسی نے خدا تعالیٰ کو چھوڑا وہاں خدا تعالیٰ بھی چھوڑ دیتا ہے۔اور یہ اب صرف قادیان کی ترقی سے وابستہ نہیں بلکہ جماعت کی مجموعی ترقی بھی اس سے وابستہ ہے کہ اپنی مسجدوں کو چھوٹا کرتے چلے جائیں اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت کی امید رکھیں۔ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ صرف قادیان کی ترقی ہی نہیں بلکہ جماعت کی ہر طرح کی ترقی کا خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔جب ایک نشان ہم پورا ہوتا دیکھتے ہیں تو دوسرے نشان کے پورے ہونے کے بارے میں بھی یقین بڑھتا ہے۔بعض دفعہ بعض حالات میں بعض لوگوں کے دل میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔خود ہی بعض اندازے لگا کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہ کام فلاں پیشگوئی کے مطابق اب ہو جائے گا۔بعض