خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 288 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 288

خطبات مسرور جلد 13 288 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء کہ میں نے کہا یہ اس وقت کے اندازے کے مطابق آپ نے بات کی ) اور اس کی آبادی شمالاً اور شرقاً پھیلتے ہوئے بیاس تک پہنچ جائے گی جو قادیان سے نومیل کے فاصلے پر بہنے والے ایک دریا کا نام ہے۔یہ پیشگوئی جب شائع ہوئی اس وقت قادیان کی حالت یہ تھی کہ اس کی آبادی دو ہزار کے قریب تھی۔سوائے چند ایک پختہ مکانات کے باقی سب مکانات کچے تھے۔مکانوں کا کرایہ اتنا گرا ہوا تھا کہ چار پانچ آنے ماہوار پر مکان کرائے پر مل جاتا تھا۔مکانوں کی زمین اس قدر ارزاں تھی کہ دس بارہ روپیہ کو قابل سکونت مکان بنانے کے لئے زمین مل جایا کرتی تھی۔بازار کا یہ حال تھا کہ دو تین روپے کا آٹا ایک وقت میں نہیں مل سکتا تھا کیونکہ لوگ زمیندار طبقے کے تھے اور خود ہی بجائے اس کے کہ آٹا رکھیں، گندم رکھا کرتے تھے اور دانے پیس کر روٹی پکاتے تھے۔چلیاں تھیں۔تعلیم کے لئے ایک مدرسہ سر کا ری تھا جو پرائمری تک تھا۔اس کا مدرس کچھ الاؤنس لے کر ڈاکخانے کا کام بھی کر دیا کرتا تھا۔ڈاک ہفتے میں ایک دفعہ آتی تھی۔تمام عمارتیں فصیل قصبہ کے اندر تھیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے ظاہری کوئی سامان نہ تھے کیونکہ قادیان ریل سے گیارہ میل کے فاصلے پر تھا۔(یعنی ریلوے لائن گیارہ میل پر تھی ) اور اس کی سڑک بالکل کچی ہے۔اور جن ملکوں میں ریل ہو ان میں اس کے کناروں پر جو شہر واقعہ ہوں انہی کی آبادی بڑھتی ہے (یا سڑکیں ہوں یا ریل ہو۔) کوئی کارخانہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے مزدوروں کی آبادی کے ساتھ شہر کی ترقی ہو جائے۔کوئی سرکاری محکمہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے قادیان کی ترقی ہو۔نہ ضلع کا مقام تھا، نہ تحصیل کا حتی کہ پولیس کی چوکی بھی نہ تھی۔قادیان میں کوئی منڈی بھی نہ تھی جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی ترقی کرتی۔جس وقت یہ پیشگوئی کی گئی اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مرید بھی چندسو سے زیادہ نہ تھے کہ ان کو حکماً لا کر یہاں بسا دیا جاتا تو شہر بڑھ جاتا۔(ماخوذ از دعوت الا میر، انوار العلوم جلد 7 صفحہ 560-561) اب اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ایک عقلمند شخص جو اس پیشگوئی پر غور کرے اور آج کے قادیان کو بھی دیکھے جو ابھی گو بیاس تک تو نہیں پھیلا لیکن اللہ کے فضل سے ترقی کر رہا ہے تو پھر بھی آج کے قادیان کو دیکھ کر ہی اس بات کو نشان قرار دے گا بشرطیکہ عقل بھی اور انصاف کی نظر بھی ہو۔پس جیسا کہ میں نے کہا ایک احمدی کے لئے تو یہ باتیں یقیناً ایمان کا باعث بنتی ہیں لیکن غیروں کی بھی اس طرف توجہ پیدا کرتی ہیں اور کئی ریسرچ کرنے والے یہاں سے جاتے ہیں۔اسلام کے مضمون پر ایک بڑے ماہر سمجھے جاتے ہیں، پروفیسر ہیں وہ احمدیت پر بھی ریسرچ کرنے کے لئے اور دیکھنے کے لئے