خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 287
خطبات مسرور جلد 13 287 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء گردہ کی در تھی۔اس لئے جمعہ پر نہیں گئے تھے۔تو میں قریب ہی ادھر اُدھر منڈلا رہا تھا کہ دیکھوں آج کیا بنتا ہے۔ان کے آتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے سوال کیا کہ آج جمعہ میں لوگ زیادہ آئے تھے اور مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے گنجائش نہیں رہی تھی۔آپ کہتے ہیں کہ میرا تو یہ بات سنتے ہی دل بیٹھنے لگا کہ خبر نہیں کہ اس شخص نے مجھ سے سچ کہا تھا یا جھوٹ کہا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے میری عزت رکھ لی۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم میں خدا تعالیٰ کے احسانات پر شکر کرنے کا مادہ بہت تھا۔انہوں نے یہ سنا تو کہا کہ حضور اللہ کا بڑا احسان تھا مسجد خوب لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔اس میں بیٹھنے کے لئے ذرا بھی گنجائش نہیں تھی۔تب میں نے سمجھا کہ اس احمدی نے جو کچھ کہا سچ کہا تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے ہماری ترقی کا یہی ذریعہ رکھا ہے کہ ہماری مسجد میں بڑھتی جائیں اور لوگوں سے ہر وقت آبا در ہیں۔جب تک تم مسجدوں کو آباد رکھو گے اس وقت تک تم بھی آباد ہو گے اور جب تم مسجدوں کو چھوڑ دو گے اس وقت خدا تعالیٰ تمہیں بھی چھوڑ دے گا۔(ماخوذاز الفضل 14 مارچ 1944 صفحہ 10 جلد 33 نمبر 61) پس قادیان کی وسعت، جماعت احمدیہ کی ترقی اور وسعت صرف رقبہ کے لحاظ سے اور تعداد کے لحاظ سے ہی نہیں ہے بلکہ اس وسعت کا اظہار ہمارے گھروں کی آبادی کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کے گھر کی آبادی پر بھی ہے۔پس ہر احمدی چاہے وہ قادیان کا رہنے والا ہے جس نے قادیان کی ترقی دیکھنی ہے یار بوہ کا رہنے والا ہے جس نے ربوہ کی ترقی دیکھنی ہے یا کسی بھی ملک کا رہنے والا ہے جس نے جماعت کی ترقی کا حصہ بننا ہے اور جماعت کی ترقی دیکھنی ہے تو اپنی آبادیوں کے ساتھ مسجدوں کو آباد رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے کہ یہ ترقیاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ملتی ہیں اور خدا تعالیٰ کا فضل اس کے گھر کی آبادی کا حق ادا کرنے سے بڑھتا ہے۔پس آج ہم جب مسجدوں کی تعمیر کی باتیں کرتے ہیں تو ہر جگہ مسجد کے چھوٹے ہونے کی بھی ہمیں کوشش کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خالص تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کبھی ہمیں نہ چھوڑے اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہر پیشگوئی کو خود بھی بڑی شان سے پورا ہوتا ہوا دیکھیں۔پھر حضرت مصلح موعود نے اس پیشگوئی کے حوالے سے جب یہ پیشگوئی کی گئی قادیان کی حالت کا مزید نقشہ کھینچا کہ قادیان کے حالات کیا تھے۔فرماتے ہیں کہ میں اس پیشگوئی کا ذکر کرتا ہوں جو قادیان کی ترقی کے متعلق ہے۔پھر فرمایا کہ وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس کو بتایا گیا کہ قادیان کا گاؤں ترقی کرتے کرتے ایک بہت بڑا شہر ہو جائے گا جیسا کہ بمبئی اور کلکتہ کا شہر ہے۔گویا نو دس لاکھ کی آبادی تک پہنچ جائے گا ( جیسا