خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 286
خطبات مسرور جلد 13 286 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء فرماتے ہیں کہ میر محمد احق صاحب مجھ سے دو سال چھوٹے ہیں اور بچپن میں چونکہ ہم اکٹھے کھیلا کرتے تھے اور ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب کی طبیعت بہت تیز تھی۔اس لئے وہ میر محمد اسحق صاحب کو ناراض ہوا کرتے تھے اور سختی سے ان کو نماز پڑھنے کے لئے کہا کرتے تھے اور اس بات کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی علم تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے پاس کسی نے میرے متعلق یہ شکایت کی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک تو میر صاحب کی نماز پڑھتا ہے۔( یعنی حضرت میر اسحق صاحب کے بارے میں فرمایا کہ وہ تو اپنے ابا کی نماز پڑھتا ہے ) اب میں نہیں چاہتا کہ دوسرا میری نماز پڑھے۔میں یہی چاہتا ہوں کہ وہ خدا کی نماز پڑھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے کبھی نماز کے متعلق نہیں کہا۔میں خود ہی تمام نمازیں پڑھ لیا کرتا تھا۔- اس سے بچے یہ مطلب بھی نہ لیں کہ ماں باپ ہمیں نماز کے لئے نہ کہیں یا ماں باپ یہ سمجھ لیں کہ بچوں کو نماز کی طرف توجہ دلانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔حضرت مصلح موعود کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت کچھ حسن ظن تھا۔نیز حضرت مسیح موعود کو یہ بھی پتا تھا کہ یہی مصلح موعود کا مصداق ہونے والا ہے۔اس لئے یہ بھی یقین تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہی نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود ہی اس کی اصلاح بھی فرماتا رہے گا۔پھر حضرت مصلح موعود کا اپنا یہ فعل کہ گیارہ سال کی عمر میں نماز کے لئے بڑی رفت سے دعا کرنا اس بات کا گواہ ہے کہ آپ کو نمازوں کی طرف تو جہ تھی۔بہر حال اس کے بعد آپ فرماتے ہیں کہ لیکن اس دن شاید میری غفلت کو اللہ تعالیٰ دُور کرنا چاہتا تھا کہ جو تھوڑی بہت سستی ہے بھی ، بعض دفعہ نماز با جماعت رہ جاتی ہے اس کو دور کرنا چاہتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے دیکھ کر کہا (جب میں واپس آ گیا اور جمعہ نہیں پڑھا کہ محمود ادھر آؤ۔میں گیا تو آپ نے فرمایا تم جمعہ پڑھنے نہیں گئے۔میں نے کہا کہ میں گیا تو تھا لیکن معلوم ہوا کہ مسجد بھری ہوئی ہے وہاں نماز پڑھنے کے لئے کوئی جگہ نہیں۔میں نے کہنے کو تو یہ کہہ دیا۔آپ فرماتے ہیں دل میں سخت ڈرا کہ دوسرے کی بات پر اعتبار کیوں کیا۔معلوم نہیں اس نے جھوٹ کہا تھا یا سچ کہا تھا۔اگر سچ بولا تب تو خیر لیکن اگر اس نے جھوٹ بولا ہے تو چونکہ اسی کی بات میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بیان کر دی ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھ سے ناراض ہوں گے کہ تم نے جھوٹ کیوں بولا ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں اپنے دل میں سخت خائف ہوا کہ آج نا معلوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا فرماتے ہیں۔اتنے میں نماز پڑھ کر مولوی عبد الکریم صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عیادت کے لئے آئے۔آپ کو اُس وقت