خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 285

خطبات مسرور جلد 13 285 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء ایک وقت ایسا آئے کہ قادیان میں ایک وسیع مسجد بنائی جائے جس میں تین چار لاکھ نمازی نماز پڑھ سکیں۔بہر حال اُس وقت آپ کے سامنے یہ مسجد اقصیٰ ہی تھی اس کے مطابق بیان فرمایا۔پھر آپ اسی مسجد اقصیٰ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ہمیں اس قدر بڑھانی پڑے گی کہ چار لاکھ نمازی اس میں آسکیں۔) اس غرض کے لئے اسے چاروں طرف بڑھایا جا سکتا ہے۔اس وقت بھی جس جگہ کھڑے ہو کر ( آپ فرما رہے ہیں ) میں خطبہ پڑھ رہا ہوں یہ اس حصے سے باہر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں تھا۔وہ مسجد اس موجودہ مسجد کا غالباً دسواں حصہ ہوگی۔تو دیکھو اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل ہے کہ لوگوں کی مسجد میں خالی پڑی رہتی ہیں اور ہم اپنی مساجد کو بڑھاتے ہیں تو وہ اور تنگ ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جگہ نہیں ملتی۔پھر آپ نے اپنا وہ واقعہ سنایا۔پہلے بھی بیان ہو چکا ہے کہ ایک دفعہ ایک فعل مجھ سے ایسا ہوا جس سے میں سخت ڈرا اور اس میں میری ہی غلطی تھی۔( آپ فرماتے ہیں ) میں فوری طور پر پکڑا بھی گیا۔لیکن اس پر یہ بھی فرمایا کہ ) میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جلد ہی میری بریت ہوگئی (اور وہ واقعہ ہے جب آپ جمعہ کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔کہتے ہیں ) میری عمر پندرہ سولہ سال تھی۔جب گھر سے نکلا تو ایک شخص مسجد سے واپس آرہا تھا تو اس نے کہا کہ مسجد میں تو نماز پڑھنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔اس لئے اس کی یہ بات سنی اور میں بھی واپس آ گیا۔فرماتے ہیں کہ میں نے ظہر کی نماز پڑھ لی۔آپ فرماتے ہیں کہ میری شامت کہ مجھے تحقیق کر لینی چاہئے تھی کہ مسجد بھری ہوئی ہے بھی یا نہیں۔یا وہاں بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی جگہ ہے بھی یا نہیں۔تو بہر حال آپ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ میں چھوٹی عمر سے ہی نمازوں کا پابند ہوں اور میں نے آج تک ایک نماز بھی کبھی ضائع نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھ سے بھی یہ دریافت نہیں فرماتے تھے کہ تم نے نماز پڑھی ہے یا نہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جب میں گیارھویں سال میں تھا تو ایک دن میں نے ضحی یا اشراق کی نماز کے وقت وضو کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کوٹ پہنا اور خدا تعالیٰ کے حضور میں خوب رویا اور میں نے عہد کیا کہ میں آئندہ نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا اور خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس عہد اور اقرار کے بعد میں نے کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑی لیکن پھر بھی چونکہ میں بچہ تھا اور بچپن میں کھیل کود کی وجہ سے بعض دفعہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں سستی ہو جاتی ہے۔اس لئے ایک دفعہ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس میری شکایت کی کہ آپ اسے سمجھائیں۔یہ نماز با جماعت پوری پابندی سے ادا کیا کرے۔آپ