خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 284
خطبات مسرور جلد 13 284 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مئی 2015ء موعود نے کھینچا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسجد ایک عام کمرے کے سائز سے زیادہ کی نہیں ہوگی اور پھر جماعت کی تعداد کا بڑھنا مسجدوں میں وسعت پیدا ہونا اور یہی نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قادیان کی ترقی اور پھیلاؤ کے بارے میں پیشگوئی کرنا آپ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔گو ابھی قادیان کا پھیلاؤ اس حد تک نہیں ہوا لیکن جب ہم بہت سے نشانوں کو پورا ہوتے دیکھتے ہیں تو یقیناً ایک وقت آئے گا جب یہ نشان بھی پورا ہوتا ہوا دنیا دیکھے گی۔اور جیسا کہ میں نے بتایا آج کا قادیان اس زمانے کے قادیان سے بہت زیادہ وسعت اختیار کر چکا ہے۔بہر حال حضرت مصلح موعود نے اس پیشگوئی کو کہ قادیان کی آبادی بڑھتے بڑھتے بیاس تک پہنچ جائے گی ، اس کو مختلف زاویوں سے بیان فرماتے ہوئے جماعت کے افراد کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے اور یہ ذمہ داری صرف قادیان کے رہنے والوں کی ہی نہیں بلکہ ہر فردِ جماعت کو اس کو سامنے رکھنا چاہئے۔ایک تو آپ نے اس حوالے سے ہمیں نمازوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔یہ عجیب بات لگتی ہے کہ آبادی کے بڑھنے کا نمازوں سے کیا تعلق ہے۔لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باتوں میں یہی خوبصورتی ہے کہ ایک بات کے مختلف پہلو بیان فرما کر اس کی اہمیت کو مزید اجاگر فرما دیتے ہیں۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے جو میں نے بیاس تک پہنچنے کا کہا آپ فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ رویا میں دیکھا کہ قادیان کی آبادی بیاس تک پھیل گئی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں اس رویا سے یہ سمجھتا ہوں کہ قادیان کی آبادی دس بارہ لاکھ ضرور ہوگی۔( اور اس وقت آبادی کے بڑھنے کے یہی اندازے لگائے جاتے تھے۔ہو سکتا ہے اس سے بھی بڑھ جائے۔) اور اگر دس بارہ لاکھ کی آبادی ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ چار لاکھ لوگ جمعہ پڑھنے کے لئے آیا کریں گے۔( پس آپ فرماتے ہیں کہ ) میرے نزدیک یہ مسجد ( یعنی مسجد اقصیٰ) بہت بڑھے گی بلکہ ہمیں اس قدر بڑھانی پڑے گی کہ چار لاکھ نمازی اس میں آسکیں۔( اب ایک مسجد میں چارلاکھ نمازی آنا تو بہت مشکل ہے۔مسجد اقصیٰ کی توسیع بھی ہوگئی ، اگر اور بھی زیادہ توسیع کی جائے اور اردگرد کے مکانوں کو بھی گرایا جائے تب بھی اتنی تعداد تو وہاں نماز نہیں پڑھ سکتی۔جتنی حد تک توسیع ہو سکتی تھی وہ کی گئی۔دار مسیح کا جو علاقہ تھا یا جو گھر تھے ان کو محفوظ رکھنا بھی اس لئے ضروری تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی بعض تاریخی عمارتیں ہیں۔اس لئے یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ تمام گھر گرا دیئے جائیں۔اور سب اگر مسجد میں شامل کر بھی لئے جائیں تو جیسا کہ میں نے کہا پھر بھی تین چار لاکھ نمازی نماز نہیں پڑھ سکتے۔ہاں یہ عین ممکن ہے کہ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ