خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 280 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 280

خطبات مسرور جلد 13 280 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015 ء تعلیم بھی حاصل کی اور مبلغ بن کے خدمت انجام دے رہے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ مدرستہ الحفظ میں ہمارے قیام کے دوران ہماری امی جان کراچی سے ربوہ کا تقریباً ہر ماہ سفر کرتیں اور اس دور میں ریل کا نظام بھی بڑا خستہ اور تکلیف دہ تھا۔آپ ہم سے مل کر ہمارا حفظ شدہ حصہ خود بھی سنتیں۔ہمارے کپڑے دھونے ،استری کرنے اور ایک دن خدمت کرنے کے بعد اگلے روز پھر واپس کراچی جا کر ( کیونکہ تدریس کے شعبہ سے منسلک تھیں ) اپنے سکول میں جا کے تدریسی ذمہ داریاں ادا کرتیں۔گزشتہ دنوں یہ وہاں گئے ہوئے تھے۔اس وقت وہ بیمار تھیں۔جنازے پر تو نہیں جا سکے لیکن بیماری میں جا کر ایک دفعہ مل آئے تھے۔کہتے ہیں جب وہاں گیا تو مجھے فرمانے لگیں کہ میں اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ یہ دعا کرتی ہوں کہ اے میرے مالک مجھے میرے واقفین زندگی بیٹوں کے لئے ابتلا نہ بنانا۔آپ کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ اپنوں غیروں کی بچیوں کی شادیوں کے مسائل اور رشتے کے مسائل حل کرنے میں بہت مدد کیا کرتی تھیں، بڑی تڑپ رکھتی تھیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت اور افراد جماعت کے ساتھ محض اللہ ہمدردی کا جو تعلق تھا وہ بھی نرالا اور بڑی شان والا تھا۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولا د کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق دے اور ان کی دعاؤں کا وارث بنائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 22 مئی 2015 ء تا 28 مئی 2015 ء جلد 22 شماره 21 صفحہ 05 تا08)