خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 279
خطبات مسرور جلد 13 279 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015ء ملک محمد رفیق صاحب اور ان کے ساتھی آفیسر کے کسی مولوی سے ٹکٹ برآمد نہ ہونے پر انہوں نے سوچا۔( بغیر ٹکٹ کے گاڑی میں سفر کر رہے تھے ) کہ اگر یہ مولوی سچے ہوتے اور ان کا جہاد حقیقی ہوتا تو یہ بغیر ٹکٹ سفر کر کے ملکی خزانے کو نقصان نہ پہنچا رہے ہوتے۔اب آجکل تو یہ اور بھی زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔بہر حال اس واقعہ کے بعد جب آپ اپنی ملازمت پر کراچی پہنچے تو آفیسر انچارج سے دریافت کیا کہ کیا ہماری یونٹ میں کوئی قادیانی ہے تو معلوم ہونے پر ایک احمدی سے گفتگو اور پھر معلومات حاصل کر کے آخر بیعت کر لی اور احمدیت میں شامل ہو گئے۔بہر حال ان کے والد نے اس طرح احمدیت قبول کی اور ان کے خاندان میں احمدیت آئی۔مرحومہ 1987ء سے اب تک کراچی میں ہی ٹیچنگ کے شعبہ سے وابستہ رہیں۔خدا تعالیٰ نے مرحومہ کو 1997 ء سے وفات تک جماعتی خدمات کی بھر پور توفیق عطا فرمائی۔1997ء سے 2005ء تک آٹھ سال پھر 2007 ء سے 2013ء تک چھ سال بحیثیت لوکل صدر لجنہ دو دفعہ خدمت کی توفیق پائی۔پھر آپ کو قیادتوں کے نگران کی حیثیت سے مقرر کیا گیا۔ضلع کراچی کی عاملہ کی ممبر رہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدمت کی توفیق پاتی رہیں۔مرحومہ موصیبہ بھی تھیں۔ان کے پسماندگان میں ان کے خاوند مکرم سید محمود احمد شاہ صاحب کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار ہیں۔آپ کے دونوں بیٹے مبلغ سلسلہ ہیں حافظ سید شاہد احمد صاحب جو نایجیریا میں ہیں اور دوسرے بیٹے مکرم حافظ سید مشہود احمد صاحب جو جامعہ احمد یہ یو کے میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔یہ والدہ کے جنازے پر جا بھی نہیں سکے۔یہی حافظ سید مشہود احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار کے والدین نے اپنے دونوں بیٹوں کو قرآن پاک حفظ کروا کر خدا کی راہ میں پیش کرنے کی توفیق پائی۔دونوں کو حافظ قرآن بنایا پھر جامعہ میں داخل کروایا۔والدہ محترمہ نے ہر معاملے میں دین کو دنیا پر مقدم رکھا اور بچپن سے ہی ہمارے ذہنوں میں یہ بات راسخ کی کہ ہم نے صرف جماعت کی خدمت کرنی ہے۔کہتے ہیں مجھے یاد ہے کہ چھوٹی عمر سے ہی رات کو سوتے ہوئے ادعیہ ماثورہ یاد کروانے کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے دعائیں کرنا ان کا معمول تھا۔بالخصوص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی اولاد کے حق میں لکھی ہوئی منظوم دعا ” میرے مولیٰ میری اک دعا ہے“ کے اشعار ترنم اور انتہائی درد کے ساتھ پڑھا کرتی تھیں۔نیز ہمیشہ فرمایا کرتی تھیں کہ تمہارے بڑے بھائی نے مربی بننا ہے اور تم نے قرآن پاک حفظ کرنے کے لئے کراچی سے ربوہ جانا ہے۔بعد میں پھر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ دونوں بھائیوں نے قرآن مجید بھی حفظ کیا اور پھر زندگی وقف کر کے جامعہ میں