خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 278 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 278

خطبات مسرور جلد 13 278 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015 ء ہوتے۔( یعنی صرف دو آدمی ہوتے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اسی طرف سیر کے لئے آنا ہوا ( قادیان کے ایک علاقے کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ اس طرف سیر کے لئے آنا ہوا) میں اس وقت چونکہ چھوٹا بچہ تھا اس لئے میں نے اصرار کیا کہ میں بھی سیر کے لئے چلوں گا۔اس زمانے میں یہاں جھاؤ کے پودے ہوا کرتے تھے۔( جھاڑیاں ہوتی تھیں وہ جس علاقے کی طرف آپ اشارہ فرما رہے ہیں وہاں جھاڑیاں ہوتی تھیں) اور یہ تمام علاقہ جہاں اب تعلیم الاسلام ہائی سکول، بورڈنگ اور مسجد وغیرہ ہیں ایک جنگل تھا اور اس میں جھاؤ کے سوا اور کوئی چیز نہ ہوا کرتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی طرف سیر کے لئے تشریف لائے اور میرے اصرار پر مجھے بھی ساتھ لے لیا۔مگر تھوڑی دور چلنے کے بعد میں نے شور مچانا شروع کر دیا کہ میں تھک گیا ہوں۔اس پر کبھی مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اٹھاتے اور کبھی حافظ حامد علی صاحب اور یہ نظارہ مجھے آج تک یاد ہے۔تو وہ ایسا زمانہ تھا کہ گو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعوی تھا مگر آپ کو ماننے والے بہت قلیل لوگ تھے اور قادیان میں آنے والا تو کوئی کوئی تھا لیکن آج یہ زمانہ ہے ( یہ 1937ء کی بات ہے جس زمانہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے یہ فرمایا ہے ) کہ ہمیں بار بار یہ اعلان کرنا پڑتا ہے کہ قادیان میں ہجرت کر کے آنے سے پیشتر لوگوں کو چاہئے کہ وہ اجازت لے لیں اور اگر کوئی بغیر اجازت کے یہاں ہجرت کر کے آئے تو اسے واپس جانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 18 صفحہ 659-660 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 دسمبر 1937ء) پس یہ واقعات یقیناً ایمان اور یقین میں اضافہ کرنے والے ہیں۔خدا تعالیٰ ہم سب کو ایمان اور یقین میں بڑھاتا چلا جائے اور ہم سب جماعت کے مفید وجود بننے والے ہوں۔نماز کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو مکر مہ محترمہ نیم محمود صاحب اہلیہ سید محمود احمد شاہ صاحب کراچی کا ہے۔27 اپریل 2015ء کو بعمر 58 سال کراچی میں کینسر کی وجہ سے ان کی وفات ہوگئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مرحومہ کے والد نے 1953ء کے پرآشوب دور میں ایک واقعہ کے بعد ذاتی مطالعہ کر کے جماعت کو قبول کیا تھا۔مخالفتیں بھی بڑے رستے کھولتی ہیں۔واقعہ یوں تھا کہ مکرم ملک محمد رفیق صاحب پاکستان ایئر فورس میں ملازم تھے۔لاہور سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے تو رائے ونڈ سے مولویوں کا ایک مجمع ٹرین میں سوار ہوا۔یہ 53ء کے زمانے کی بات ہے جب پاکستان میں احمدیوں کے خلاف پہلا فساد ہوا۔رائے ونڈ سے مولویوں کا مجمع ٹرین میں سوار ہوا کہ ہم جہاد پر جارہے ہیں اور جہاد کیا ہے کہ قادیانیت کو اس ملک سے مٹا کر دم لیں گے۔کہتے ہیں کہ ٹکٹ چیکر کے آنے پر سوائے