خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 277
خطبات مسرور جلد 13 277 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015 ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک کشف کے چند منٹ میں پورا ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ کبھی بیداری میں ایک نظارہ دکھایا جاتا ہے مگر وہ تعبیر طلب نہیں ہوتا بلکہ فلق الصبح کی طرح اسی رنگ میں ظاہر ہو جاتا ہے جس رنگ میں اللہ تعالیٰ انسان کو نظارہ دکھاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کشوف میں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کشفی حالت میں دیکھا کہ مبارک احمد چٹائی کے پاس گرا پڑا ہے اور اسے سخت چوٹ آئی ہے۔ابھی اس کشف پر تین منٹ سے زیادہ نہیں گزرے تھے کہ مبارک احمد جو چٹائی کے پاس کھڑا تھا اس کا پیر پھسل گیا۔اسے سخت چوٹ آئی اور اس کے کپڑے خون سے بھر گئے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 10 صفحه 447) پھر قادیان کی ابتدائی حالت کا نقشہ اور پھر قادیان کی ترقی اور جماعت کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کوئی آدمی نہ تھا۔پھر وہ وقت آیا جب آپ کے ساتھ ہزاروں آدمی تھے اور اب تو لاکھوں تک پہنچ گئے ہیں۔پھر کسی زمانے میں پنجاب میں بھی کوئی شخص آپ کا معتقد نہ تھا اور اب نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا کے تمام براعظموں میں احمدی پھیل گئے ہیں۔اگر یہ سچ بات ہے کہ دنیا نہیں مانتی تو پھر اتنے لوگ کہاں سے آگئے؟ ( اگر ہمیں جماعت احمدیہ کو، حضرت مسیح موعود کو دنیا نہیں مانتی تو اتنے لوگ کہاں سے آگئے اور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ملکوں کے ملک احمدی ہو رہے ہیں یا وہاں احمدیت پھیل رہی ہے۔آپ فرماتے ہیں ) یہیں دیکھ لو۔اچھے لوگ اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہیں ان میں سے کتنے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانے میں آپ پر ایمان لائے؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس مجمع میں بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شکل دیکھی۔زیادہ تر وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تصویر دیکھی۔پھر کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے شکل تو دیکھی مگر آپ کی صحبت میں بیٹھنے کا انہیں موقع نہ ملا اور بہت قلیل ایسے ہیں جو غالباً درجنوں سے بڑھ کر نہیں ہو سکتے جنہوں نے آپ کی باتیں سنیں اور آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کا انہیں موقع ملا مگر آخر یہ لوگ کہاں سے آئے۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) میری پیدائش اور بیعت قریباً ایک ہی وقت سے چلتی ہے۔( ساتھ ساتھ چلتی ہیں ) اور جب میں نے کچھ ہوش سنبھالا۔اس وقت کئی سال تبلیغ پر گزر چکے تھے لیکن مجھے اپنے ہوش کے زمانے میں یہ بات یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب سیر کے لئے نکلتے تو صرف حافظ حامد علی صاحب ساتھ