خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 276 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 276

خطبات مسرور جلد 13 276 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015ء اشاعت کے لئے خرچ کر دیتے ہو تو تم ملکیت کے مظہر تو بن جاؤ گے۔( مالکیت کے مظہر تو بن جاؤ گے ) مگر رب العالمین کے مظہر نہیں بنو گے کیونکہ رب العالمین کا مظہر بننے کے لئے ضروری ہے کہ تم اپنے ہاتھ سے کام کرو اور غرباء کی خدمت پر کمر بستہ رہو۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 18 صفحہ 579-580 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 نومبر 1937ء) پس یہ خوبصورت وضاحت ہے کہ رب العالمین کا مظہر بننے کے لئے اپنے ہاتھ سے نہ صرف اپنوں کی بلکہ غیروں کی بھی خدمت کرنے کی کوشش کریں۔اگر غور کریں تو اس کے بڑے وسیع نتائج ہیں جو قوم کو آپس میں مضبوطی سے جوڑ دیتے ہیں۔اور معاشرے کا ہر حصہ اگر اس پر عمل کرے تو ایک دوسرے کی خدمت کرنے سے ایک خوشگوار معاشرہ بن جاتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے توکل، قبولیت دعا، اپنی سچائی پر کامل یقین ہونے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک دفعہ کپورتھلہ کے احمدیوں اور غیر احمدیوں کا وہاں کی ایک مسجد کے متعلق مقدمہ ہو گیا۔جس حج کے پاس یہ مقدمہ تھا اس نے مخالفانہ رویہ اختیار کرنا شروع کر دیا۔اس پر کپورتھلہ کی جماعت نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دعا کے لئے لکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے جواب میں انہیں تحریر فرمایا کہ اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کو مل جائے گی۔مگر دوسری طرف حج نے اپنی مخالفت بدستور جاری رکھی اور آخر اس نے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھ دیا۔مگر دوسرے دن جب وہ فیصلہ سنانے کے لئے عدالت میں جانے کی تیاری کرنے لگا تو اس نے نوکر سے کہا کہ مجھے بوٹ پہنا دو۔نوکر نے ایک بوٹ پہنایا اور دوسرا ابھی پہنا ہی رہا تھا کہ گھٹ کی آواز آئی۔اس نے اوپر دیکھا تو حج کا ہارٹ فیل ہو چکا تھا۔اس کے مرنے کے بعد دوسرے حج کو مقرر کیا گیا اور اس نے پہلے فیصلے کو بدل کر ہماری جماعت کے حق میں فیصلہ کر دیا جو دوستوں کے لئے ایک بہت بڑا نشان ثابت ہوا اور ان کے ایمان آسمان تک پہنچے۔غرض اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے انبیاء کے ذریعہ متواتر غیب کی خبریں دیتا ہے جن کے پورا ہونے پر مومنوں کے ایمان اور بھی ترقی کر جاتے ہیں۔یہ غیب کی خبروں کا ہی نتیجہ تھا کہ جو لوگ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ان کے دل اس قدر مضبوط ہو گئے کہ اور لوگ تو موت کو دیکھ کر روتے ہیں مگر صحابہ میں سے کسی کو جب خدا تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کا موقع ملتا تو وہ خوشی سے اچھل پڑتا اور کہتا: فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ۔کہ رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 7 صفحه 27-28)