خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 275

خطبات مسرور جلد 13 275 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015ء کی ضرورت ہے وہاں پورے زور سے اور پوری توجہ سے خدمت بھی کرنی ہے۔صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کی ذہانت اور ذکاوت کے متعلق حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں احساس اور بے حسی کو مثال کے ذریعہ سمجھاتا ہوں جنہوں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ حضرت صاحب کو مبارک احمد سے کس قدر محبت تھی۔اس محبت کی کئی وجہیں تھیں۔اول یہ کہ وہ کمزور تھا اور کچھ نہ کچھ بیمار رہتا تھا۔اس لئے اس کی طرف خاص توجہ رکھتے تھے اور یہ لازمی بات ہے کہ جس کی طرف خاص توجہ ہو اس سے محبت ہو جاتی ہے۔دوسرے اگر چہ وہ ہم سے چھوٹا تھا اور اس کی عمر بھی بہت تھوڑی تھی مگر بہت ذہین اور ذکی تھا۔(حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت کی ایک یہ بھی وجہ تھی کہ وہ بہت ذہین اور ذکی تھا۔) اس کی عمر سات سال کی تھی اور وہ اسی عمر میں شعر کہ لیتا تھا اور عام طور پر اس کے شعر کا وزن درست ہوتا تھا۔( اتنی چھوٹی عمر میں بھی شعر کہتے تھے اور وزن بھی درست ہوتا تھا۔) اس کی ذہانت اور حافظے کی مثال یہ ہے کہ جب حضرت صاحب نے وہ بڑی نظم جس کی ردیف ” یہی ہے، لکھی تو ہم سب کو فرمایا کہ تم قافیہ تلاش کرو۔اس نے (یعنی صاحبزادہ مبارک احمد نے ) ہم سب سے زیادہ قافیہ بتلائے جن میں بہت سے عمدہ قافیہ تھے۔“ (خطبات محمود جلد اول صفحه 77-78 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 جون 1920ء) رب العالمین کا مظہر بننے کیلئے مخلوق کی خدمت کی اہمیت پھر حضرت مصلح موعود ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس کا تعلق اس بات سے ہے کہ مخلوق کی جسمانی خدمت بھی کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اظہار ہو سکے۔فرماتے ہیں کہ مجھے ایک نظارہ کبھی نہیں بھولتا۔میں اس وقت چھوٹا سا تھا۔سولہ سترہ سال کی عمر تھی کہ اس وقت ہماری ایک چھوٹی ہمشیرہ جو چند ماہ کی تھی فوت ہو گئی اور اس کو دفن کرنے کے لئے اسی مقبرے میں لے گئے جس کے متعلق احرار کہتے ہیں کہ احمدی اس میں دفن نہیں ہو سکتے۔جنازے کے بعد نعش حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں پر اٹھالی۔اس وقت مرزا اسماعیل بیگ صاحب مرحوم جو یہاں دودھ کی دکان کیا کرتے تھے آگے بڑھے اور کہنے لگے حضور الغش مجھے دے دیجئے۔میں اٹھا لیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مڑکر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا ” یہ میری بیٹی ہے۔یعنی بیٹی ہونے کے لحاظ سے اس کی ایک جسمانی خدمت جو اس کی آخری خدمت ہے یہی ہوسکتی ہے کہ میں خود اس کو اٹھا کر لے جاؤں۔حضرت مصلح موعود اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ رب العالمین کا مظہر بننا چاہتے ہو تو تمہارے لئے بھی ضروری ہے کہ مخلوق کی جسمانی خدمات بجا لاؤ۔اگر تم خدمت دین میں اپنی ساری جائیداد میں دے دیتے ہو۔اپنی کل آمد اسلام کی