خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 273 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 273

خطبات مسرور جلد 13 273 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015 ء نکالا اور دوستوں کو خط لکھنے شروع کئے جو قریبی تھے ) کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 5 صفحہ 232) وہ اللہ تعالیٰ کی ایک امانت تھی جو اس نے ہم سے لے لی۔تو مومن کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف تو وہ جہاں تک ہو سکتا ہے دوسرے کی خدمت کرتا ہے اور اس خدمت کو اپنے لئے ثواب کا موجب سمجھتا ہے مگر دوسری طرف جب اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوتی ہے تو وہ کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہیں کرتا۔وہ سمجھتا ہے کہ خدمت کا ثواب مجھے مل گیا لیکن جو جزع فزع کرنے والے ہوتے ہیں وہ دنیا کی مصیبت الگ اٹھاتے ہیں اور آخرت کی مصیبت الگ اٹھاتے ہیں اور اس سے زیادہ بد بخت اور کون ہو سکتا ہے جو دوہری مصیبت اٹھائے۔اس جہان کی مصیبت کو بھی برداشت کرے اور اگلے جہان کی مصیبت کو بھی برداشت کرے۔(ماخوذ از الفضل 14 مارچ 1944 ء صفحہ 4 جلد 32 نمبر 61) پھر حضرت مصلح موعود ایک جگہ اسی بارے میں قادیان کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”یہاں رہنے والے لوگوں نے دیکھا ہو گا کہ مولوی عبدالکریم صاحب اور مبارک احمد کی بیماری میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو علاج معالجہ کا کس قدر خیال ہوتا تھا۔دیکھنے والوں کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ اپنے سلسلہ کی ترقی انہی کی زندگی پر سمجھتے تھے۔ان ایام میں سوائے اس کے اور کوئی ذکر ہی نہ ہوتا تھا کہ کس طرح علاج ہو اور کیا علاج کیا جائے۔لیکن ان کی وفات کے وقت کیا ہوا۔یہی کہ یک لخت آپ کی ایسی حالت بدلی کہ حیرت ہی ہو گئی۔یا تو اتنا جوش کہ صبح سے لے کر شام تک ( مولوی عبد الکریم صاحب کا وقت جب آیا تھا اس وقت بھی اور عزیزم مبارک احمد کا یا صاحبزادہ مبارک احمد کا آیا اس وقت بھی ) انہی کے علاج معالجہ کا ذکر یا آپ اس بات پر ہنس ہنس کر اور نہایت بشاش چہرہ سے تقریر فرمارہے ہیں کہ ان کی وفات کے متعلق خدا تعالیٰ نے پہلے ہی سے بتا دیا ہوا تھا۔“ (خطبات محمود جلد 5 صفحہ 231) پھر آپ نے اس واقعہ کا ایک جگہ اس طرح بھی ذکر فرمایا ہے کہ مبارک احمد کی وفات کے بعد جب آپ گھر سے باہر تشریف لائے۔(باہر لوگ تھے۔اس لئے باہر تشریف لے گئے ) تو بیٹھتے ہی آپ نے جو تقریر کی اس میں فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا ہے اور ہماری جماعت کو اس قسم کے ابتلاؤں پر غم نہیں کرنا چاہئے۔پھر فرما یا مبارک احمد کے متعلق فلاں وقت مجھے الہام ہوا تھا کہ یہ چھوٹی عمر میں اٹھالیا جائے گا۔اس لئے یہ تو خوشی کا موجب ہے کہ خدا تعالیٰ کا نشان پورا ہوا۔