خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 269 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 269

خطبات مسرور جلد 13 269 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مئی 2015 ء تو تب بھی جاگتے دیکھتا۔اس محنت کی وجہ سے آپ کو کھانسی ہو گئی۔طبیعت خراب رہنے لگی۔(ماخوذ از تقدیر الہی ، انوار العلوم جلد 4 صفحہ 579) حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میرے سپرد آپ کی دوائی وغیرہ پلانے کی خدمت تھی اور قدرتی طور پر جس کے سپرد کوئی کام کیا جائے وہ اس میں دخل دینا بھی اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔میں بھی اپنی کمپاؤڈری کا یہ حق سمجھتا تھا کہ کچھ نہ کچھ دخل آپ کے کھانے پینے میں دوں۔چنانچہ مشورہ کے طور پر عرض بھی کر دیا کرتا تھا کہ یہ نہ کھائیں وہ نہ کھائیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نسخے بھی تیار ہو کر استعمال ہوتے تھے اور انگریزی دوائیاں بھی مگر کھانسی بڑھتی ہی جاتی تھی۔یہ 1907ء کا واقعہ ہے اور عبد الحکیم مرتد نے آپ کی کھانسی کی تکلیف کا پڑھ کر لکھا تھا کہ مرزا صاحب سل کی بیماری میں مبتلا ہوکر فوت ہوں گے اس لئے ہمیں کچھ یہ بھی خیال تھا کہ غلط طور پر بھی اسے خوشی کا کوئی بہانہ نہ مل سکے۔مگر آپ کو کھانسی کی تکلیف بہت زیادہ تھی اور بعض دفعہ ایسا لمبا ا چھو آتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سانس رک جائے گا۔ایسی حالت میں باہر سے کوئی دوست آئے۔( یعنی جب یہ حالت تھی تو باہر سے کوئی دوست تشریف لائے ) اور تحفے کے طور پر کچھ پھل لے کے آئے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں نے وہ حضور کے سامنے پیش کر دیئے۔آپ نے انہیں دیکھا اور فرمایا کہ انہیں ( دوست کو) کہہ دو کہ جزاك الله اور پھر ان میں سے کوئی چیز جو غالباً کیلا تھا اٹھایا۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ میں چونکہ دوائی وغیرہ پلایا کرتا تھا اس لئے یا شاید مجھے سبق دینے کے لئے حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ یہ کھانسی میں کیسا ہوتا ہے۔میں نے کہا اچھا تو نہیں ہوتا۔مگر آپ مسکرا پڑے اور چھیل کر کھانے لگے۔میں نے پھر عرض کیا کہ کھانسی بہت سخت ہے اور یہ چیز کھانے میں اچھی نہیں۔آپ پھر مسکرائے اور کھاتے رہے۔میں نے اپنی نادانی سے پھر اصرار کیا کہ نہیں کھانا چاہئے۔اس پر آپ پھر مسکرائے اور فرمایا مجھے ابھی الہام ہوا ہے کہ کھانسی دور ہوگئی۔چنانچہ کھانسی اسی وقت جاتی رہی۔حالانکہ اس وقت نہ کوئی دوا استعمال کی اور نہ کوئی پر ہیز کیا بلکہ بد پرہیزی کی اور کھانسی پھر بھی دور ہو گئی۔اگر چہ اس سے پہلے ایک مہینہ علاج ہوتا رہا تھا اور کھانسی دور نہ ہوئی تھی۔تو یہ الہی تصرف ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ یوں تو بد پر ہیزی سے بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور علاج سے صحت بھی ہوتی ہے مگر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو دخل بھی دے دیتا ہے اور دعا کا ہتھیار اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھایا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور جا کر کہے کہ میں آزادی نہیں چاہتا۔میں اپنے حالات سے تنگ آ گیا ہوں۔آپ مہربانی کر کے